بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مکان،‌زمین،‌دُکان‌اور‌دُوسری‌چیزیں‌کرایہ‌پر‌دینا

مکان‌کرایہ‌پر‌دینا‌جائز‌ہے

سوال:۔

کرایہ جو جائیداد وغیرہ سے ملتا ہے کیا سود ہے؟ ہمارے ایک بزرگ جو دِین کی کافی سمجھ رکھتے ہیں، فرماتے ہیں کہ: ’’سود مقرّر ہوتا ہے، اور اس میں فائدے کی شکل بھی ہوتی ہے، نقصان کا پہلو نہیں ہوتا، اور یہی صورت کرائے آمدنی کی ہے‘‘ معلوم ہوا ہے، اگرچہ میں نے خود نہیں پڑھا ہے کہ محترم ڈاکٹر اسرار احمد صاحب نے بھی جائیداد کے کرایہ کو ’’سود‘‘ قرار دیا ہے۔

جواب:۔

اگر جائیداد سے مراد زمین، مکان، دُکان وغیرہ ہے تو ان چیزوں کو کرایہ پر دینے کی حدیث میں اجازت آئی ہے،(۱) اس لئے اس کو ’’سود‘‘ سمجھنا اور کہنا غلط ہے۔

  1. (۱) عن عبداللہ ابن سائب قال: دخلنا علٰی عبداللہ ابن معقل فسألنا عن المزارعۃ فقال: زعم ثابت أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نھی عن المزارعۃ وأمر بالمواجرۃ وقال لَا بأس بھا۔ (مسلم ج:۲ ص:۱۴)۔ وفی الھدایۃ: ویجوز استئجار الدور والحوانیت للسکنی وإن لم یبین ما یعمل فیھا لأن العمل المتعارف فیھا السکنٰی فینصرف إلیہ وانہ لَا یتفاوت فصح العقد۔ ثم قال ویجوز إستئجار الأراضی للزراعۃ لأنھا منفعۃ مقصودۃ معھودۃ فیھا۔ (ھدایۃ ج:۳ ص:۲۹۷، کتاب الْإجارۃ)۔