مکان،زمین،دُکاناوردُوسریچیزیںکرایہپردینا
بٹائیکےمتعلقحدیثمخابرہکیتحقیق
سوال:۔
کیا حدیثِ مخابرہ میں بٹائی کی ممانعت آئی ہے؟ جیسا کہ ’’بینات‘‘ کے ایک مضمون سے واضح ہوتا ہے۔
جواب:۔
’’بینات‘‘ بابت ذی الحجہ ۱۳۸۹ھ (فروری ۱۹۷۰ء) میں محترم مولانا محمد طاسین صاحب زید مجدہم نے ’’رِبا‘‘ کے بہتر۷۲ اَبواب پر بحث کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’اسی طرح مزارعت کو بھی ایک حدیث میں رِبا سے تعبیر کیا گیا ہے، اور دُوسری حدیث میں اس کو نہ چھوڑنے والوں کو ویسی ہی دھمکی دی گئی ہے جو قرآن میں ’’رِبا‘‘ سے باز نہ آنے والوں کو دی گئی ہے:
’’عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّہٗ زَرَعَ اَرْضًا فَمَرَّ بِہِ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ یَسْقِیْہَا فَسَاَلَہٗ: لِمَنِ الزَّرْعُ؟ وَلِمَنِ الْاَرْضُ؟ فَقَالَ: زَرْعِیْ وَبِبَذْرِیْ وَعَمَلِیْ لِیَ الشَّطْرُ وَلِبَنِیْ فُلَانٍ الشَّطْرُ۔ فَقَالَ: اَرْبَیْتُمَا، فَرُدَّ الْاَرْضَ عَلٰی اَہْلِہَا وَخُذْ نَفَقَتَکَ۔‘‘ (ابوداؤد ج:۲ ص:۱۲۷، طبع ایچ ایم سعید)
ترجمہ:۔ ’’حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک کھیتی کاشت کی، وہاں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ہوا، جبکہ وہ اس کو پانی دے رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ: یہ کس کی کھیتی ہے اور کس کی زمین ہے؟ میں نے جواب دیا: کھیتی میرے بیج اور عمل کا نتیجہ ہے، اور آدھی پیداوار میری اور آدھی بنی فلاں کی ہوگی۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے رِبا اور سود کا معاملہ کیا، زمین اس کے مالکوں کو واپس کردو اور اپنا خرچ ان سے لے لو۔‘‘
’’عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: مَنْ لَّمْ یَذَرِ الْمُخَابَرَۃَ فَلْیَاْذَنْ بِحَرْبٍ مِّنَ اللہِ وَرَسُوْلِہٖ۔‘‘ (ابوداؤد ج:۲ ص:۱۲۷، طبع ایچ ایم سعید)
ترجمہ:۔ ’’حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: جو شخص ’’مخابرہ‘‘ کو نہ چھوڑے، اس کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلانِ جنگ ہے۔‘‘
یہ دونوں روایتیں چونکہ مولانا محترم کے مضمون میں محض برسبیل تذکرہ آگئی ہیں، اس لئے ان کے مالہٗ وما علیہ سے بحث نہیں کی گئی۔ اس سے عام آدمی کو یہ غلط فہمی ہوسکتی ہے کہ اسلام میں ’’مزارعت‘‘(۱) مطلقاً ’’رِبا‘‘ کا حکم رکھتی ہے، اور جو لوگ یہ معاملہ کرتے ہیں ان کے خلاف خدا اور رسول کی جانب سے اعلانِ جنگ ہے۔ لیکن اہلِ علم کو معلوم ہے کہ ’’مزارعت‘‘ اسلام میں مطلقاً ممنوع نہیں۔
مولانا کی تحریر کی وضاحت کے لئے تو اتنا اجمال بھی کافی ہے کہ مزارعت کی بعض صورتیں ناجائز ہیں، ان احادیث میں ان ہی سے ممانعت فرمائی گئی ہے، اور ان پر ’’رِبا‘‘ (سود) کا اطلاق کیا گیا ہے۔ مولانا موصوف اس اطلاق کی توجیہ کرنا چاہتے ہیں کہ: ’’رِبا‘‘ کی مختلف قسمیں ہیں، جن میں قباحت و بُرائی کے اعتبار سے فرق و تفاوت ہے۔ احادیث میں بعض ایسے معاشی معاملات کو جن میں ’’رِبا‘‘ سے ایک گونہ مشابہت و مماثلت پائی جاتی تھی ’’رِبا‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے، اسی طرح مزارعت (کی ناجائز صورتوں) کو بھی ’’رِبا‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ لیکن بعض ملاحدہ نے ان کو غلط محمل پر محمول کیا ہے، اس بنا پر ضروری ہوا کہ اس اجمال کی تفصیل بیان کی جائے اور ان روایتوں کا صحیح محمل بیان کیا جائے۔
ایک شخص جو اپنی زمین خود کاشت نہیں کرسکتا، یا نہیں کرتا، وہ اسے کاشت کے لئے کسی دُوسرے کے حوالے کردیتا ہے، اس کی کئی صورتیں ہوسکتی ہیں:
اوّل:۔ یہ کہ وہ اسے ٹھیکے پر اُٹھادے اور اس کا معاوضہ زَرِ نقد کی صورت میں وصول کرے۔ اسے عربی میں ’’کراء الأرض‘‘ کہا جاتا ہے، فقہاء اسے اِجارات کے ذیل میں لاتے ہیں اور یہ صورت بالاتفاق جائز ہے۔(۲)
دوم:۔ یہ کہ مالک، زَرِ نقد وصول نہ کرے، بلکہ پیداوار کا حصہ مقرّر کرلے، اس کی پھر دو صورتیں ہیں:
۱:۔ یہ کہ زمین کے کسی خاص قطعے کی پیداوار اپنے لئے مخصوص کرلے، یہ صورت بالاتفاق ناجائز ہے،(۳) اور احادیثِ مخابرہ میں اسی صورت کی ممانعت ہے، جیسا کہ آئندہ معلوم ہوگا۔
۲:۔ یہ کہ زمین کے کسی خاص قطعے کی پیداوار اپنے لئے مخصوص نہ کرے، بلکہ یہ طے کیا جائے کہ کل پیداوار کا اتنا حصہ مالک کو ملے گا اور اتنا حصہ کاشتکار کو (مثلاً: نصف، نصف)۔
یہ صورت مخصوص شرائط کے ساتھ جمہور صحابہؓ و تابعینؒ کے نزدیک جائز اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدینؓ کے عمل سے ثابت ہے، چنانچہ:
’’عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا قَالَ: عَامَلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَیْبَرَ بِشَطْرِ مَا یَخْرُجُ مِنْہَا مِنْ ثَمَرٍ اَوْ زَرْعٍ۔‘‘ (صحیح بخاری ج:۱ ص:۳۱۳، صحیح مسلم ج:۲ ص:۱۴، جامع ترمذی ص:۱۶۶، ابوداؤد ص:۴۸۴، ابنِ ماجہ ص:۱۷۷، طحاوی ج:۲ ص:۲۸۸)
الف:۔ ’’حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ خیبر سے یہ معاملہ طے کیا تھا کہ زمین (وہ کاشت کریں گے اور اس) سے جو پھل یا غلہ حاصل ہوگا اس کا نصف ہم لیا کریں گے۔‘‘
’’عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا قَالَ: اَعْطٰی رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَیْبَرَ بِالشَّطْرِ ثُمَّ اَرْسَلَ ابْنَ رَوَاحَۃَ فَقَاسَمَہُمْ۔‘‘(طحاوی ج:۲ ص:۲۸۸، ابوداؤد ص:۴۸۴)
ب:۔ ’’حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی زمین نصف پیداوار پر اُٹھادی تھی، پھر عبداللہ بن رواحہؓ کو بٹائی کے لئے بھیجا کرتے تھے۔‘‘
ج:۔ ’’حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خیبر کی زمین اللہ تعالیٰ نے ’’فیٔ‘‘ کے طور پر دی تھی۔۔۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (یہودِ خیبر) کو حسبِ سابق بحال رکھا اور پیداوار اپنے لئے اور ان کے لئے نصف رکھی، اور عبداللہ بن رواحہؓ کو اس کی تقسیم پر مامور فرمایا تھا۔‘‘(۴)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی، عبداللہ بن مسعود، معاذ بن جبل، حذیفہ بن یمان، سعد بن ابی وقاص، ابنِ عمر، ابنِ عباس جیسے اکابر صحابہ (رضی اللہ عنہم) سے مزارعت کا معاملہ ثابت ہے۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے آخری دور تک مزارعت پر کبھی کسی نے اعتراض نہیں کیا تھا۔
چنانچہ صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ارشاد مروی ہے:
’’کُنَّا لَا نَرٰی بِالْخَبَرِ بَاْسًا حَتّٰی کَانَ عَامَ اَوَّلَ فَزَعَمَ رَافِعٌ اَنَّ نَبِیَّ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَفٰی عَنْہُ۔‘‘ (صحیح مسلم ج:۲ ص:۱۲)
ترجمہ:۔ ’’ہم مزارعت میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے تھے، اب یہ پہلا سال ہے کہ رافع کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔‘‘
ایک اور روایت میں ہے:
’’کَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا یُکْرِیْ مَزَارِعَہٗ عَلٰی عَہْدِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَاَبِیْ بَکْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ، وَصَدْرًا مِّنْ اِمَارَۃِ مُعَاوِیَۃَ ثُمَّ حَدَّثَ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَہٰی عَنْ کِرَاءِ الْمَزَارِعِ۔‘‘ (صحیح بخاری ج:۱ ص:۳۱۵)
ترجمہ:۔ ’’حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہما اپنی زمین کرائے (بٹائی) پر دیا کرتے تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کے زمانے میں، اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور میں۔ پھر انہیں رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی روایت سے یہ بتایا گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرایہ پر اُٹھانے سے منع کیا ہے۔‘‘
ایک اور روایت میں ہے:
’’عَنْ طَاوٗسٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ: اَکْرَی الْاَرْضَ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاَبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ عَلَی الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ فَہُوَ یَعْمَلُ بِہٖ اِلٰی یَوْمِکَ ہٰذَا۔‘‘ (ابنِ ماجہ ص:۱۷۷)
ترجمہ:۔ ’’حضرت طاؤسؒ سے روایت ہے کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کے عہد تک میں زمین بٹائی پر دی تھی، پس آج تک اسی پر عمل ہو رہا ہے۔‘‘
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا یہ واقعہ یمن سے متعلق ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قاضی کی حیثیت سے یمن بھیجا تھا۔ وہاں کے لوگ مزارعت کا معاملہ کرتے تھے، حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے، جن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’حلال و حرام کا سب سے بڑا عالم‘‘(۵) فرمایا تھا، اس سے منع نہیں فرمایا بلکہ خود بھی مزارعت کا معاملہ کیا۔ حضرت طاؤسؒ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرستادہ (حضرت معاذ بن جبلؓ) نے یمن کی اراضی میں جو طریقہ جاری کیا تھا، آج تک اسی پر عمل ہے۔
اس باب کی تمام روایات و آثار کا استیعاب مقصود نہیں، نہ یہ ممکن ہے، بلکہ صرف یہ دیکھنا ہے کہ دورِ نبوّت اور خلافتِ راشدہ کے دور میں اکابر صحابہؓ کا اس پر عمل تھا اور مزارعت کے عدمِ جواز کا سوال کم از کم اس دور میں نہیں اُٹھا تھا، جس سے صاف واضح ہوتا ہے کہ اسلام میں مزارعت کی اجازت ہے اور احادیثِ ’’مخابرہ‘‘ میں جس مزارعت سے ممانعت فرمائی گئی ہے اس سے مزارعت کی وہ شکلیں مراد ہیں جو دورِ جاہلیت سے چلی آتی تھیں۔
بعض دفعہ ایک بات کسی خاص موقع پر مخصوص انداز اور خاص سیاق میں کہی جاتی ہے، جو لوگ اس موقع پر حاضر ہوں اور جن کے سامنے وہ پورا واقعہ ہو ، جس میں وہ بات کہی گئی تھی، انہیں اس کے مفہوم کے سمجھنے میں دِقت پیش نہیں آئے گی، مگر وہی بات جب کسی ایسے شخص سے بیان کی جائے جس کے سامنے نہ وہ واقعہ ہوا ہے جس میں یہ بات کہی گئی تھی، نہ وہ متکلم کے اندازِ تخاطب کو جانتا ہے، نہ اس کے لب و لہجے سے واقف ہے، نہ کلام کے سیاق کی اسے خبر ہے، اگر وہ اس کلام کے صحیح مفہوم کو نہ سمجھ پائے تو محلِ تعجب نہیں: ’’شنیدہ کے بود مانند دیدہ‘‘ یہی وجہ ہے کہ آیات کے اَسبابِ نزول کو علمِ تفسیر کا اہم شعبہ قرار دیا گیا ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے:
’’وَالَّذِیْ لَا اِلٰہَ غَیْرُہٗ! مَا نَزَلَتْ مِنْ اٰیَۃٍ مِّنْ کِتَابِ اللہِ اِلَّا وَاَنَا اَعْلَمُ فِیْمَنْ نَزَلَتْ وَاَیْنَ نَزَلَتْ، وَلَوْ اَعْلَمُ مَکَانَ اَحَدٍ اَعْلَمَ بِکِتَابِ اللہِ مِنِّیْ تَنَالُہُ الْمَطَایَا لَاَتَیْتُہٗ۔‘‘ (الْإتقان ص:۱۸۷، النوع الثمانون)
ترجمہ:۔ ’’اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! کتاب اللہ کی کوئی آیت ایسی نہیں جس کے بارے میں مجھے یہ معلوم نہ ہو کہ وہ کس کے حق میں نازل ہوئی اور کہاں نازل ہوئی۔ اور اگر مجھے کسی ایسے شخص کا علم ہوتا جو مجھ سے بڑھ کر کتاب اللہ کا عالم ہو اور وہاں سواری جاسکتی تو میں اس کی خدمت میں ضرور حاضر ہوتا۔‘‘
اسی قسم کا ایک ارشاد حضرت علی کرّم اللہ وجہہ کا بھی نقل کیا گیا ہے، وہ فرمایا کرتے تھے:
’’وَاللہِ! مَا نَزَلَتْ اٰیَةٌ اِلَّا وَقَدْ عَلِمْتُ فِیْمَ اُنْزِلَتْ وَاَیْنَ اُنْزِلَتْ اِنَّ رَبِّیْ وَہَبَ لِیْ قَلْبًا عَقُوْلًا وَّلِسَانًا سَؤُوْلًا۔‘‘ (الْإتقان ص:۱۸۷، النوع الثمانون)
ترجمہ:۔ ’’بخدا! جو آیت بھی نازل ہوئی، مجھے معلوم ہے کہ کس واقعہ کے بارے میں نازل ہوئی اور کہاں نازل ہوئی۔ میرے رَبّ نے مجھے بہت سمجھنے والا دِل، اور بہت پوچھنے والی زبان عطا کی ہے۔‘‘
اور یہی وجہ ہے کہ حق تعالیٰ نے: ﵟ إِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا ٱلذِّكۡرَ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَٰفِظُونَ ﵞالحجر ٩کا وعدہ پورا کرنے کے لئے جہاں قرآن مجید کے ایک ایک شوشے کو محفوظ رکھا، وہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی زندگی کے ایک ایک گوشے کی بھی حفاظت فرمائی، ورنہ خدا جانے ہم قرآن پڑھ پڑھ کر کیا کیا نظریات تراشا کرتے! اور یہی وجہ ہے کہ تمام اَئمہ مجتہدینؒ کے ہاں یہ اُصول تسلیم کیا گیا کہ کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ٹھیک مفہوم سمجھنے کے لئے یہ دیکھنا ہوگا کہ اکابر صحابہؓ نے اس پر کیسے عمل کیا اور خلافتِ راشدہ کے دور میں اس کے کیا معنی سمجھے گئے۔
یہ اکابر صحابہؓ جو مزارعت کا معاملہ کرتے تھے، مزارعت کی ممانعت ان کے لئے صرف شنیدہ نہیں تھی، دیدہ تھی۔ وہ یہ جانتے تھے کہ مزارعت کی کون سی قسمیں زمانۂ جاہلیت سے رائج تھیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ممنوع قرار دیا۔ اور مزراعت کی کون سی صورتیں باہمی شقاق و جدال کی باعث ہوسکتی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلاح فرمائی۔ مزارعت کی جائز و ناجائز صورتوں کو وہ گویا اسی طرح جانتے تھے جس طرح وضو کے فرائض و سنن سے واقف تھے۔ ان میں ایک فرد بھی ایسا نہیں تھا جو مزارعت کے کسی ناجائز معاملے پر عمل پیرا ہو، ظاہر ہے کہ اس صورت میں کسی نکیر کا سوال کب ہوسکتا تھا؟ یہ صورتِ حال حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور تک قائم رہی۔ مزارعت کے جواز و عدمِ جواز کا مسئلہ پوری طرح بدیہی اور روشن تھا، اور اس نے کوئی غیرمعمولی نوعیت اختیار نہیں کی تھی۔
روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ خلافتِ راشدہ کے بعد کچھ حالات ایسے پیش آئے جن سے یہ مسئلہ بدیہی کے بجائے نظری بن گیا، اور بحث و تمحیص کی ایک صورت پیدا ہوگئی۔ غالباً بعض لوگوں نے مسئلہ مزارعت کی نزاکتوں کو پوری طرح ملحوظ نہ رکھا اور مزارعت کی بعض ایسی صورتیں وقوع میں آنے لگیں جن سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا تھا، اس پر صحابہ کرامؓ نے نکیر فرمائی اور مزارعت سے ممانعت کی احادیث بیان فرمادیں۔
’’إِنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَھٰی عَنِ الْمُزَارَعَۃِ۔‘‘ (مسلم ج:۲ ص:۱۴)۔
’’إِنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَھٰی عَنِ الْمُخَابَرَۃِ۔‘‘ (مسلم ج:۲ ص:۱۱)۔
’’نَھٰی رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ کِرَاءِ الْأَرْضِ۔‘‘ (مسلم ج:۲ ص:۱۱)۔
ترجمہ:۔ ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’مزارعت‘‘ سے منع فرمایا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’مخابرت‘‘ سے منع فرمایا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرایہ پر دینے سے منع فرمایا ہے۔‘‘
ادھر بعض لوگوں کو ان احادیث کا مفہوم سمجھنے میں دِقت پیش آئی، انہوں نے یہ سمجھا کہ ان احادیث کا مقصد ہر قسم کی مزارعت کی نفی کرنا ہے۔ اس طرح یہ مسئلہ بحث و نظر کا موضوع بن گیا۔
اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ جو افاضل صحابہ کرامؓ اس وقت موجود تھے، انہوں نے اس نزاع کا فیصلہ کس طرح فرمایا؟
حدیث کی کتابوں میں ممانعت کی روایتیں تین صحابہؓ سے مروی ہیں: رافع بن خدیج، جابر بن عبداللہ اور ثابت بن ضحاک، رضی اللہ عنہم۔
حضرت ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ کی روایت اگرچہ نہایت مختصر اور مجمل ہے، تاہم اس میں یہ تصریح ملتی ہے کہ زمین کو زَرِ نقد پر اُٹھانے کی ممانعت نہیں ہے۔
’’اِنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَہٰی عَنِ الْمُزَارَعَةِ وَاَمَرَ بِالْمُؤَاجَرَةِ، وَقَالَ: لَا بَاْسَ بِہَا۔‘‘ (صحیح مسلم ج:۲ ص:۱۴، طحاوی ج:۲ ص:۲۱۳، میں صرف پہلا جملہ ہے)
ترجمہ:۔ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزارعت سے منع فرمایا اور زَرِ نقد پر زمین دینے کا حکم فرمایا، اور فرمایا: اس کا مضائقہ نہیں۔‘‘
حضرت جابر اور حضرت رافع رضی اللہ عنہما کی روایات میں خاصا تنوّع پایا جاتا ہے، جس سے ان کا صحیح مطلب سمجھنے میں اُلجھنیں پیدا ہوئی ہیں، تاہم مجموعی طور پر دیکھئے تو ان کی کئی قسمیں ہیں، اور ہر قسم کا الگ الگ محل ہے۔
حضرت رافع رضی اللہ عنہ کی روایات کے بارے میں یہاں ’’خاصے تنوّع‘‘ کا جو لفظ استعمال ہوا ہے، حضراتِ محدثین اسے ’’اِضطراب‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔
اِمام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’حَدِیْثُ رَافِعٍ حَدِیْثٌ فِیْہِ اضْطِرَابٌ، یُرْوٰی ہٰذَا الْحَدِیْثُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ عَنْ عُمُوْمَتِہٖ، وَیُرْوٰی عَنْہُ عَنْ ظُہَیْرِ بْنِ رَافِعٍ، وَہُوَ اَحَدُ عُمُوْمَتِہٖ، وَقَدْ رُوِیَ ہٰذَا الْحَدِیْثُ عَنْہُ عَلٰی رِوَایَاتٍ مُّخْتَلِفَۃٍ۔‘‘ (جامع ترمذی ج:۱ ص:۱۶۶)
اِمام طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’وَاَمَّا حَدِیْثُ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ فَقَدْ جَاءَ بِاَلْفَاظٍ مُّخْتَلِفَةٍ اضْطَرَبَ مِنْ اَجْلِہَا۔‘‘ (شرح معانی الآثار ج:۲ ص:۲۸۵، کتاب المزرعۃ والمساقاۃ)
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’وَقَدِ اخْتَلَفَ الرُّوَاةُ فِیْ حَدِیْثِ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ اخْتِلَافًا فَاحِشًا۔‘‘(حجۃ اللہ البالغہ ج:۲ ص:۱۱۷)
اوّل:۔ بعض روایات میں ممانعت کا مصداق مزارعت کا وہ جاہلی تصوّر ہے جس میں یہ طے کرلیا جاتا تھا کہ زمین کے فلاں عمدہ اور زَرخیز ٹکڑے کی پیداوار مالک کی ہوگی اور فلاں حصے کی پیداوار کاشتکار کی ہوگی، اس میں چند در چند قباحتیں جمع ہوگئی تھیں۔
اوّلاً:۔ معاشی معاملات باہمی تعاون کے اُصول پر طے ہونے چاہئیں، اس کے برعکس یہ معاملہ سراسر ظلم و استحصال اور ایک فریق کی صریح حق تلفی پر مبنی تھا۔
ثانیاً:۔ یہ شرط فاسد اور مقتضائے عقد کے خلاف تھی، کیونکہ جب کسان کی محنت تمام پیداوار میں یکساں صرف ہوئی ہے تو لازم ہے کہ اس کا حصہ تمام پیداوار میں سے دیا جائے۔
ثالثاً:۔ یہ قمار کی ایک شکل تھی، آخر اس کی کیا ضمانت ہے کہ مالک یا کسان کے لئے جو قطعہ مخصوص کردیا گیا ہے، وہ بار آور بھی ہوگا؟
رابعاً:۔ اس قسم کی غلط شرطوں کا نتیجہ عموماً نزاع و جدال کی شکل میں برآمد ہوتا ہے، ایسے جاہلی معاملے کو برداشت کرلینے کے معنی یہ تھے کہ اسلامی معاشرے کو ہمیشہ کے لئے جدال و قتال کی آماج گاہ بنادیا جائے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لائے تو ان کے ہاں اکثر و بیشتر مزارعت کی یہی غلط صورت رائج تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اصلاح فرمائی، غلط معاملے سے منع فرمایا اور مزارعت کی صحیح صورت پر عمل کرکے دِکھایا۔ مندرجہ ذیل روایات اس پر روشنی ڈالتی ہیں:
’’عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ حَدَّثَنِیْ عَمَّایَ اَنَّہُمْ کَانُوْا یُکْرُوْنَ الْاَرْضَ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِمَا یَنْبُتُ عَلَی الْاَرْبِعَاءِ اَوْ بِشَیْءٍ یَّسْتَثْنِیْہِ صَاحِبُ الْاَرْضِ فَنَہَانَا النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ ذٰلِکَ، فَقُلْتُ لِرَافِعٍ: فَکَیْفَ ہِیَ بِالدِّیْنارِ وَالدَّرَاہِمِ؟ فَقَالَ رَافِعٌ: لَیْسَ بِہَا بَاْسٌ بِالدِّیْنارِ وَالدَّرَاہِمِ، وَکَاَنَّ الَّذِیْ نُہِیَ عَنْ ذٰلِکَ مَا لَوْ نَظَرَ فِیْہِ ذَوُو الْفَہْمِ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ لَمْ یُجِیْزُوْہُ لِمَا فِیْہِ مِنَ الْمُخَاطَرَۃِ۔‘‘ (صحیح بخاری ج:۱ ص:۳۱۵)
الف:۔ ’’رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے چچا بیان کرتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگ زمین مزارعت پر دیتے تو یہ شرط کرلیتے کہ نہر کے متصل کی پیداوار ہماری ہوگی، یا کوئی اور استثنائی شرط کرلیتے (مثلاً: اتنا غلہ ہم پہلے وصول کریں گے، پھر بٹائی ہوگی)، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۔ (راوی کہتے ہیں) میں نے حضرت رافعؓ سے کہا: اگر زَرِ نقد کے عوض زمین دی جائے اس کا کیا حکم ہوگا؟ رافعؓ نے کہا: اس کا مضائقہ نہیں! لیثؒ کہتے ہیں: مزارعت کی جس شکل کی ممانعت فرمائی گئی تھی، اگر حلال و حرام کے فہم رکھنے والے غور کریں تو کبھی اسے جائز نہیں کہہ سکتے ہیں، کیونکہ اس میں معاوضہ ملنے نہ ملنے کا اندیشہ (مخاطرہ) تھا۔‘‘
’’حَدَّثَنِیْ حَنْظَلَةُ بْنُ قَیْسٍ الْاَنْصَارِیُّ قَالَ: سَاَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِیْجٍ عَنْ کِرَاءِ الْاَرْضِ بِالذَّہَبِ وَالْوَرِقِ، فَقَالَ: لَا بَاْسَ بِہٖ، اِنَّمَا کَانَ النَّاسُ یُؤَاجِرُوْنَ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی الْمَاْذِیَانَاتِ وَاِقْبَالِ الْجَدَاوِلِ وَاَشْیَاءَ مِنَ الزَّرْعِ فَیَہْلِکُ ہٰذَا وَیَسْلَمُ ہٰذَا وَیَسْلَمُ ہٰذَا وَیَہْلِکُ ہٰذَا فَلَمْ یَکُنْ لِّلنَّاسِ کِرَاءٌ اِلَّا ہٰذَا فَلِذٰلِکَ زَجَرَ عَنْہُ، وَاَمَّا شَیْءٌ مَّعْلُوْمٌ مَّضْمُوْنٌ فَلَا بَاْسَ بِہٖ۔‘‘ (صحیح مسلم ج:۲ ص:۱۳)
ب:۔ ’’حنظلہ بن قیس کہتے ہیں: میں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ: سونے چاندی (زَرِ نقد) کے عوض زمین ٹھیکے پر دی جائے،ا س کا کیا حکم ہے؟ فرمایا: کوئی مضائقہ نہیں! دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگ جو مزارعت کرتے تھے (اور جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا تھا) اس کی صورت یہ ہوتی تھی کہ زمین دار، زمین کے ان قطعات کو جو نہر کے کناروں اور نالیوں کے سروں پر ہوتے تھے، اپنے لئے مخصوص کرلیتے تھے، اور پیداوار کا کچھ حصہ بھی طے کرلیتے، بسااوقات اس قطعے کی پیداوار ضائع ہوجاتی اور اس کی محفوظ رہتی، کبھی برعکس ہوجاتا۔ اس زمانے میں لوگوں کی مزارعت کا بس یہی ایک دستور تھا، اس بنا پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سختی سے منع کیا، لیکن اگر کسی معلوم اور قابلِ ضمانت چیز کے بدلے میں زمین دی جائے تو اس کا مضائقہ نہیں۔‘‘
اس روایت میں حضرت رافع رضی اللہ عنہ کا یہ جملہ خاص طور پر توجہ طلب ہے:
’’فَلَمْ یَکُنْ لِّلنَّاسِ کِرَاءٌ اِلَّا ہٰذَا۔‘‘
ترجمہ:۔ ’’لوگوں کی مزارعت کا بس یہی ایک دستور تھا۔‘‘
اور ان کی بعض روایات میں یہ بھی آتا ہے:
ترجمہ:۔ ’’ان دنوں سونا چاندی نہیں تھے۔‘‘
اس کا مطلب ۔۔۔واللہ اعلم۔۔۔ یہی ہوسکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ طیبہ تشریف لائے، ان دنوں زمین ٹھیکے پر دینے کا رواج تو قریب قریب عدم کے برابر تھا، مزارعت کی عام صورت بٹائی کی تھی، لیکن اس میں جاہلی قیود و شرائط کی آمیزش تھی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نفسِ مزارعت کو نہیں بلکہ مزارعت کی اس جاہلی شکل کو ممنوع قرار دیا اور مزارعت کی صحیح صورت معین فرمائی۔ یہ صورت وہی تھی جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ خیبر سے معاملہ فرمایا، اور جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اور آپ کے بعد اکابر صحابہؓ نے عمل کیا۔
’’جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللہِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ یَقُوْلُ: کُنَّا فِیْ زَمَنِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَاْخُذُ الْاَرْضَ بِالثُّلُثِ اَوْ الرُّبُعِ بِالْمَاْذِیَانَاتِ فَنَہٰی رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ ذٰلِکَ۔‘‘ (شرح معانی الآثار للطحاوی ج:۲ ص:۲۸۹)
ج:۔ ’’حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں زمین لیا کرتے تھے نصف پیداوار پر، تہائی پیداوار پر، اور نہر کے کناروں کی پیداوار پر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا تھا۔‘‘
د:۔ ’’سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: لوگ اپنی زمین مزارعت پر دیا کرتے تھے، شرط یہ ہوتی تھی کہ جو پیداوار گول (الساقیہ) پر ہوگی اور جو کنویں کے گرد و پیش پانی سے سیراب ہوگی، وہ ہم لیا کریں گے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے نہی فرمائی، اور فرمایا: سونے چاندی پر دیا کرو۔‘‘(۶)
’’عَنْ نَافِعٍ اَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کَانَ یُکْرِیْ مَزَارِعَہٗ عَلٰی عَہْدِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاَبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ وَصَدْرًا مِّنْ اِمَارَۃِ مُعَاوِیَۃَ ثُمَّ حَدَّثَ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ: اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَہٰی عَنْ کِرَاءِ الْمَزَارِعِ، فَذَہَبَ ابْنُ عُمَرَ اِلٰی رَافِعٍ وَذَہَبْتُ مَعَہٗ فَسَاَلَہٗ، فَقَالَ: نَہَی النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ کِرَاءِ الْمَزَارِعِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: قَدْ عَلِمْتُ اَنَّا کُنَّا نُکْرِیْ مَزَارِعَنَا عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِمَا عَلَی الْاَرْبِعَاءِ شَیْءٍ مِّنَ التِّیْنِ۔‘‘ (صحیح بخاری ج:۱ ص:۳۱۵)
ہ:۔ ’’حضرت نافع کہتے ہیں: حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہما اپنی زمین مزارعت پر دیا کرتے تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کے دور میں، اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور تک بھی۔ پھر ان سے بیان کیا گیا کہ رافع بن خدیجؓ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے، حضرت ابنِ عمرؓ، حضرت رافعؓ کے پاس گئے، میں بھی ساتھ تھا، ان سے دریافت کیا، انہوں نے فرمایا: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے۔ ابنِ عمرؓ نے فرمایا: آپ کو یہ تو معلوم ہی ہے کہ ہماری مزارعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اس پیداوار کے عوض ہوا کرتی تھی جو نہروں پر ہوتی تھی اور کچھ گھاس کے عوض، (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی سے منع فرمایا تھا)۔‘‘
حضرت رافع بن خدیج، جابر بن عبداللہ، سعد بن ابی وقاص اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کی ان روایات سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ مزارعت کی وہ جاہلی شکل کیا تھی جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا تھا۔
دوم:۔ نہی کی بعض روایات اس پر محمول ہیں کہ بعض اوقات زائد قیود و شرائط کی وجہ سے معاملہ کنندگان میں نزاع کی صورت پیدا ہوجاتی تھی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر فرمایا تھا کہ اس سے تو بہتر یہ ہے کہ تم اس قسم کی مزارعت کے بجائے زَرِ نقد پر زمین دیا کرو۔ چنانچہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو جب یہ خبر پہنچی کہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ مزارعت سے منع فرماتے ہیں، تو آپؓ نے افسوس کے لہجے میں فرمایا:
’’یَغْفِرُ اللہُ لِرَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ، اَنَا وَاللہِ اَعْلَمُ بِالْحَدِیْثِ مِنْہُ، اِنَّمَا رَجُلَانِ - قَالَ مُسَدَّدٌ: مِنَ الْاَنْصَارِ ثُمَّ اتَّفَقَا - قَدِ اقْتَتَلَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِنْ کَانَ ہٰذَا شَاْنُکُمْ فَلَا تُکْرُوا الْمَزَارِعَ۔‘‘ (ابوداؤد ص:۴۸۱ واللفظ لہٗ، ابنِ ماجہ ص:۱۷۷)
ترجمہ:۔ ’’اللہ تعالیٰ رافعؓ کی مغفرت فرمائے، بخدا! میں اس حدیث کو ان سے بہتر سمجھتا ہوں۔‘‘
قصہ یہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں انصار کے دو شخص آئے ان کے مابین مزارعت پر جھگڑا تھا، اور نوبت مرنے مارنے تک پہنچ گئی تھی، (قَدِ اقْتَتَلَا) آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا:
’’اِنْ کَانَ ہٰذَا شَاْنُکُمْ فَلَا تُکْرُوا الْمَزَارِعَ۔‘‘
ترجمہ:۔ ’’جب تمہاری حالت یہ ہے تو مزارعت کا معاملہ ہی نہ کرو۔‘‘
رافعؓ نے بس اتنی بات سن لی: ’’تم مزارعت کا معاملہ نہ کیا کرو‘‘۔
’’عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: کَانَ اَصْحٰبُ الْمَزَارِعِ یُکْرُوْنَ فِیْ زَمَانِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَزَارِعَہُمْ بِمَا یَکُوْنُ عَلَی السَّاقِ مِنَ الزَّرْعِ فَجَاءُوْا رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاخْتَصَمُوْا فِیْ بَعْضِ ذٰلِکَ، فَنَہَاہُمْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنْ یُّکْرُوْا بِذٰلِکَ وَقَالَ: اِکْرُوْا بِالذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ۔‘‘ (نسائی ج:۲ ص:۱۵۳)
ترجمہ:۔ ’’سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ زمین دار اپنی زمین اس پیداوار کے عوض جو نہروں پر ہوتی تھی، دیا کرتے تھے، وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور مزارعت کے سلسلے میں جھگڑا کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر مزارعت نہ کیا کرو، بلکہ سونے چاندی کے عوض دیا کرو۔‘‘
ان دونوں روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی خاص مقدمے کا فیصلہ فرماتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں فریقوں کو فہمائش کی تھی کہ وہ آئندہ ’’مزارعت‘‘ کے بجائے زَرِ نقد پر زمین لیا دیا کریں۔
سوم:۔ احادیثِ نہی کا تیسرا محمل یہ تھا کہ بعض لوگوں کے پاس ضرورت سے زائد زمین تھی اور بعض ایسے محتاج اور ضرورت مند تھے کہ وہ دُوسروں کی زمین مزارعت پر لیتے، اس کے باوجود ان کی ضرورت پوری نہ ہوتی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو، جن کے پاس اپنی ضرورت سے زائد اراضی تھی، ہدایت فرمائی تھی کہ وہ حسنِ معاشرت، مواسات، اسلامی اُخوّت اور بلند اخلاقی کا نمونہ پیش کریں اور اپنی زائد زمین اپنے ضرورت مند بھائیوں کے لئے وقف کردیں، اس پر انہیں اللہ کی جانب سے جو اَجر و ثواب ملے گا، وہ اس معاوضے سے یقینا بہتر ہوگا جو اپنی زمین کا وہ حاصل کرتے تھے۔
’’عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: مَرَّ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلٰی اَرْضِ رَجُلٍ مِّنَ الْاَنْصَارِ قَدْ عَرَفَ اَنَّہٗ مُحْتَاجٌ، فَقَالَ: لِمَنْ ہٰذِہِ الْاَرْضُ؟ قَالَ: لِفُلَانٍ اَعْطَانِیْہَا بِالْاَجْرِ، فَقَالَ: لَوْ مَنَحَہَا اَخَاہُ۔ فَاَتٰی رَافِعٌ الْاَنْصَارَ، فَقَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللہِ نَہَاکُمْ عَنْ اَمْرٍ کَانَ لَکُمْ نَافِعًا وَّطَاعَۃُ رَسُوْلِ اللہِ اَنْفَعُ لَکُمْ۔‘‘ (نسائی ج:۲ ص:۱۵۱)
ترجمہ:۔ ’’رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری کی زمین پر سے گزرے، یہ صاحب محتاجی میں مشہور تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: یہ زمین کس کی ہے؟ اس نے بتایا کہ فلاں شخص کی ہے، اس نے مجھے اُجرت پر دی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کاش! وہ اپنے بھائی کو بلا عوض دیتا۔ حضرت رافع رضی اللہ عنہ انصار کے پاس گئے، ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں ایک ایسی چیز سے روک دیا ہے جو تمہارے لئے نفع بخش تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل تمہارے لئے اس سے زیادہ نافع ہے۔‘‘
’’عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: مَنْ کَانَتْ لَہٗ اَرْضٌ فَلْیَہَبْہَا اَوْ لِیُعِرْہَا۔‘‘ (صحیح مسلم ج:۲ ص:۱۲)
ترجمہ:۔ ’’حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جس کے پاس زمین ہو، اسے چاہئے کہ وہ کسی کو ہبہ کردے یا عاریۃً دے دے۔‘‘
’’عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا: اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَاَنْ یَّمْنَحَ اَحَدُکُمْ اَخَاہُ اَرْضَہٗ خَیْرٌ لَّہٗ مِنْ اَنْ یَّاْخُذَ عَلَیْہَا کَذَا وَکَذَا۔‘‘ (صحیح مسلم ج:۲ ص:۱۴)
ترجمہ:۔ ’’ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: البتہ یہ بات کہ تم میں سے ایک شخص اپنے بھائی کو اپنی زمین کاشت کے لئے بلاعوض دے دے اس سے بہتر ہے کہ اس پر اتنا اتنا معاوضہ وصول کرے۔‘‘
یعنی ہم نے مانا کہ زمین تمہاری ملکیت ہے، یہ بھی صحیح ہے کہ قانون کی کوئی قوّت تمہیں ان کی مزارعت سے نہیں روک سکتی، لیکن کیا اسلامی اُخوّت کا تقاضا یہی ہے کہ تمہارا بھائی بھوکوں مرتا رہے، اس کے بچے سسکتے رہیں، وہ بنیادی ضرورتوں سے بھی محروم رہے، لیکن تم اپنی ضرورت سے زائد زمین جسے تم خود کاشت نہیں کرسکتے، وہ بھی اسے معاوضہ لئے بغیر دینے کے لئے تیار نہ ہو؟ کیا تم نہیں جانتے کہ مسلمان بھائی کی ضرورت پورا کرنے پر حق تعالیٰ شانہ کی جانب سے کتنا اجر و ثواب ملتا ہے؟ یہ چند ٹکے جو تم زمین کے عوض قبول کرتے ہو، کیا اس اَجر و ثواب کا مقابلہ کرسکتے ہیں؟
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضراتِ مہاجرینؓ کی مدینہ طیبہ تشریف آوری کے بعد حضراتِ انصارؓ نے ’’اسلامی مہمانوں‘‘ کی معاشی کفالت کا بارِگراں جس خندہ پیشانی سے اُٹھایا، اِیثار و مروّت، ہمدردی و غم خواری اور اُخوّت و مواسات کا جو اعلیٰ نمونہ پیش کیا، ’’نَہٰی عَنْ کِرَاءِ الْاَرْضِ‘‘ کی احادیث بھی اسی سنہری معاشی کفالت کا ایک باب ہے۔
اِمام بخاری رحمہ اللہ نے ان احادیث پر یہ باب قائم کرکے اسی طرف اشارہ کیا ہے:
’’بَابُ مَا کَانَ اَصْحٰبُ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُوَاسِیْ بَعْضُہُمْ بَعْضًا فِی الزِّرَاعَةِ وَالثَّمَرَةِ۔‘‘ (صحیح بخاری ج:۱ ص:۳۱۵)
ذرا تصوّر کیجئے! ایک چھوٹا سا قصبہ (المدینہ) اس میں انصارؓ کی کل آبادی ہی کتنی تھی؟ ان کا ذریعۂ معاش کیا تھا؟ لے دے کر یہی زمینیں! جو اسلام سے پہلے خود ان کی اپنی ضروریات کے لئے بھی بصد مشکل کفالت کرتی ہوں گی، ان کی جاںنثاری و بلند ہمتی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر یہ عہد کرلیا تھا کہ ہم اپنی اور اپنے بال بچوں کی نہیں بلکہ اسلام اور مسلمانوں کی کفالت کریں گے۔ انہوں نے یہ عہد جس طرح نبھایا وہ سب کو معلوم ہے (رَضِیَ اللہُ عَنْهُمْ وَاَرْضَاهُمْ وَجَزَاهُمْ عَنِ الْاِسْلَامِ وَالْمُسْلِمِیْنَ خَیْرَ الْجَزَاءِ۔) اطراف و اکناف سے کھنچ کھنچ کر قافلوں کے قافلے یہاں جمع ہو رہے تھے اور حضراتِ انصارؓ ’’أَھْـلًا وَّسَھْـلًا وَّمَرْحَباً‘‘ کہہ کر ان کا استقبال فرما رہے تھے۔
کون اندازہ کرسکتا ہے کہ یہ چھوٹی سی بستی اور اس کے یہ چند گنے چنے ’’انصار الاسلام‘‘ کتنے معاشی بوجھ کے نیچے دَب گئے ہوں گے، لیکن صد آفرین ان وفاکیش فدائیوں کو! کہ ایک لمحے کے لئے انہوں نے اس بوجھ سے اُکتاہٹ کا احساس تک نہیں کیا، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے مہمانوں کی خاطر اپنا سب کچھ پیش کردیا، گویا ان کا اپنا کچھ نہیں تھا، جو کچھ تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا، اور ان کی حیثیت محض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کارندوں کی تھی۔ سوچنا چاہئے کہ ان حالات میں ’’انصار الاسلام‘‘ کو اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے ہیں: ’’جس کے پاس زمین ہو وہ اپنے بھائی کو ہبہ کردے یا اسے عاریۃً دے دے‘‘ کیا اس کے یہ معنی ہوں گے کہ اسلام میں مزارعت کا باب ہی سرے سے مفقود ہے؟ ان احادیث کو مدینہ طیبہ کے معاشی دباؤ اور حضراتِ انصارؓ کی ’’کفالتِ اسلامیہ‘‘ کے پسِ منظر میں پڑھا جائے تو صاف نظر آئے گا کہ ان کا منشا یہ نہیں کہ اسلام میں مزارعت ناجائز ہے، (اگر ایسا ہوتا تو خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اکابر صحابہؓ یہ معاملہ کیوں کرتے؟) بلکہ ان کا منشا یہ ہے کہ بقول سعدیؒ:
ہر چہ درویشاں را است وقف محتاجاں است
آپ اپنی ضرورت پوری کیجئے اور زائد اَز ضرورت کو ضرورت مندوں کے لئے حسبۃً للہ وقف کردیجئے، یہ تھے احادیثِ نہی کے تین محمل، جس کی وضاحت حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے فرمائی، اور جن کا خلاصہ حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کے الفاظ میں یہ ہے:
’’وَکَانَ وُجُوْہُ التَّابِعِیْنَ یَتَعَامَلُوْنَ بِالْمُزَارَعَةِ، وَیَدُلُّ عَلَی الْجَوَازِ حَدِیْثُ مُعَامَلَةِ اَہْلِ خَیْبَرَ وَاَحَادِیْثُ النَّہْیِ عَنْہَا مَحْمُوْلَةٌ عَلَی الْاِجَارَةِ بِمَا عَلَی الْمَاْذِیَانَاتِ اَوْ قِطْعَةٍ مُّعَیَّنَةٍ، وَہُوَ قَوْلُ رَافِعٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ، اَوْ عَلَی التَّنْزِیْہِ وَالْاِرْشَادِ، وَہُوَ قَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا، اَوْ عَلٰی مَصْلَحَةٍ خَاصَّةٍ بِذٰلِکَ الْوَقْتِ مِنْ جِہَةِ کَثْرَةِ مُنَاقَشَتِہِمْ فِیْ ہٰذِہِ الْمُعَامَلَةِ حِیْنئِذٍ، وَہُوَ قَوْلُ زَیْدٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ، وَاللہُ اَعْلَمُ!‘‘ (حجۃ اللہ البالغہ ج:۲ ص:۱۱۷)
ترجمہ:۔ ’’(صحابہؓ کے بعد) اکابر تابعینؒ مزارعت کا معاملہ کرتے تھے، مزارعت کے جواز کی دلیل اہلِ خیبر سے معاملے کی حدیث ہے، اور مزارعت سے ممانعت کی احادیث یا تو ایسی مزارعت پر محمول ہیں جس میں نہروں کے کناروں (ماذیانات) کی پیداوار یا کسی معین قطعے کی پیداوار طے کرلی جائے، جیسا کہ حضرت رافع رضی اللہ عنہ نے فرمایا، یا تنزیہ و ارشاد پر، جیسا کہ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا، یا اس پر محمول ہیں کہ مزارعت کی وجہ سے بکثرت مناقشات پیدا ہوگئے تھے، اس مصلحت کی بنا پر اس سے روک دیا گیا، جیسا کہ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا، واللہ اعلم!‘‘
قریب قریب یہی تحقیق حافظ ابنِ جوزیؒ نے ’’التحقیق‘‘ میں، اور اِمام خطابیؒ نے ’’معالم السنن‘‘ میں کی ہے، مگر اس مقام پر حافظ تورپشتی شارح مصابیح (رحمہ اللہ) کا کلام بہت نفیس و متین ہے، وہ فرماتے ہیں:
’’مزارعت کی احادیث جو مؤلف (صاحبِ مصابیح) نے ذکر کی ہیں اور جو دُوسری کتبِ حدیث میں موجود ہیں، بظاہر ان میں تعارض و اختلاف ہے، ان کی جمع و تطبیق میں مختصراً یہ کہا جاسکتا ہے کہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے نہیٔ مزارعت کے باب میں کئی حدیثیں سنی تھیں جن کے محمل الگ الگ تھے، انہوں نے ان سب کو ملاکر روایت کیا، یہی وجہ ہے کہ وہ کبھی فرماتے ہیں: ’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے‘‘، کبھی کہتے ہیں: ’’میرے چچاؤں نے مجھ سے بیان کیا‘‘، کبھی کہتے ہیں: ’’میرے دو چچاؤں نے مجھے خبر دی‘‘ بعض احادیث میں ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ وہ لوگ غلط شرائط لگالیتے تھے اور نامعلوم اُجرت پر معاملہ کرتے تھے، چنانچہ اس کی ممانعت کردی گئی۔ بعض کی وجہ یہ ہے کہ زمین کی اُجرت میں ان کا جھگڑا ہوجاتا تاآنکہ نوبت لڑائی تک پہنچ جاتی۔ اس موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لوگو! اگر تمہاری یہ حالت ہے تو مزارعت کا معاملہ ہی نہ کرو‘‘ یہ بات حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان فرمائی ہے۔ بعض احادیث میں ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو پسند نہیں فرمایا کہ مسلمان اپنے بھائی سے زمین کی اُجرت لے، کبھی ایسا ہوگا کہ آسمان سے برسات نہیں ہوگی، کبھی زمین کی روئیدگی میں خلل ہوگا، اندریں صورت اس بے چارے کا مال ناحق جاتا رہے گا، اس سے مسلمانوں میں باہمی نفرت و بغض کی فضا پیدا ہوگی، یہ مضمون حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث سے سمجھا جاتا ہے کہ: ’’جس کی زمین ہو، وہ خود کاشت کرے یا کسی بھائی کو کاشت کے لئے دے دے‘‘ تاہم یہ بطور قانون نہیں بلکہ مروّت و مواسات کے طور پر ہے۔ بعض احادیث میں ممانعت کا سبب یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کاشتکاری پر فریفتہ ہونے، اس کی حرص کرنے اور ہمہ تن اسی کے ہو رہنے کو ان کے لئے پسند نہیں فرمایا، کیونکہ اس صورت میں وہ جہاد فی سبیل اللہ سے بیٹھ رہتے، جس کے نتیجے میں ان سے غنیمت و فیٔ کا حصہ فوت ہوجاتا (آخرت کا خسارہ مزید برآں رہا) اس کی دلیل ابواُمامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے۔
(اِشَارَۃٌ اِلٰی مَا رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیْثِ اَبِیْ اُمَامَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ: لَا یَدْخُلُ ہٰذَا بَیْتَ قَوْمٍ اِلَّا اَدْخَلَہُ الذُّلُّ)۔‘‘(۷)
اس تمام بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ اسلام میں مزارعت نہ مطلقاً جائز ہے، نہ مطلقاً ممنوع، بلکہ اس بات کی تمام احادیث کا مجموعی مفاد ’’کج دار و مریز‘‘ کی تلقین ہے، حضراتِ فقہائے اُمت نے اس باب کی نزاکتوں کو پوری طرح سمجھا، چنانچہ تمام فقہی مسالک میں ’’کج دار و مریز‘‘ کی دقیق رعایت نظر آئے گی، اور یہ بحث و تحقیق کا ایک الگ موضوع ہے، وَاللہُ وَلِیُّ الْبِدَایَۃِ وَالنِّہَایَۃِ!
’’والمزارعۃ أن تکون الأرض والبذر لواحد، والعمل والبقر من الآخر، والمخابرۃ أن تکون الأرض لواحد، والبذر والبقر والعمل من الآخر، ونوع آخر أن یکون العمل من أحدھما والباقی من الآخر‘‘ (حجۃ اللہ البالغۃ ج:۲ ص:۱۱۷)۔
- (۱) عربی میں ’’مزارعت‘‘ اور ’’مخابرۃ‘‘ ہم معنی ہیں، بعض حضرات نے یہ فرق کیا ہے کہ بیج زمین کے مالک کی جانب سے ہو تو ’’مزارعت‘‘ ہے، اور اگر بیج کسان کی جانب سے ہو تو یہ ’’مخابرۃ‘‘ ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
- (۲) قال محمد رحمہ اللہ تعالٰی فی الجامع الصغیر من استأجر أرضًا بدراھم علٰی أن یکریھا أو یزرعھا أو یسقیھا أو یزرعھا فھو جائز۔ (عالمگیری ج:۴ ص:۴۴۳، کتاب الْإجارۃ، الباب الخامس عشر)۔ وھٰکذا قال فإن إجارۃ الأراضی جائز۔ (عالمگیری ج:۴ ص:۴۴۳، درمختار ج:۶ ص:۲۹، کتاب الْإجارۃ، أیضًا: ھدایۃ ج:۳ ص:۲۹۵)۔
- (۳) وقال لو شرطا ان ما یخرج فی ھٰذہ الناحیۃ لأحدھما والباقی للآخر لَا یجوز کذا فی فتاویٰ قاضیخان۔ (عالمگیری ج:۵ ص:۲۴۲، کتاب المزارعۃ، الباب الثالث فی شروط المزارعۃ)۔
- (۴) عن جابر رضی اللہ عنہ قال: أفاء اللہ خیبر فاقرھم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کما کانوا وجعلھا بینہ وبینھم فبعث ابن رواحۃ فخرصھا علیھم۔ (شرح معانی الآثار ج:۲ ص:۲۳۸، کتاب المزارعۃ والمساقاۃ)۔
- (۵) عن أنس عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: أرحم اُمّتی بأُمّتی أبوبکر، وأشدّھم فی أمر اللہ عمر، وأصدقھم حیاءً عثمان ۔۔۔ وأعلم بالحلال والحرام معاذ بن جبل ۔۔۔إلخ۔ (مشکوٰۃ ص:۵۶۶ باب مناقب العشرۃ رضی اللہ عنھم، الفصل الثانی، طبع قدیمی کتب خانہ کراچی)۔
- (۶) عن سعد قال: کنا نکری الأرض بما علی السواقی من الزرع، وما سعد بالماء منھا فنھانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن ذالک وأمرنا أن نکوبھا بذھب أو فضۃ۔ (أبو داوٗد ج:۲ ص:۱۲۵، باب فی المزارعۃ)۔
- (۷) عن أبی امامۃ الباھلی قال: ورأی سِکّۃ وشیئًا من آلۃ الحرث فقال سمعت النبی صلی اللہ علیہ وسلم یقول: لَا یدخل ھٰذا بیت قوم إلّا أدخلہ اللہ الذل۔ (صحیح بخاری ج:۱ ص:۳۱۲، باب ما یحذر من عواقب الْإشتغال بآلۃ الزرع أو جاوز الحدّ الذی أمر بہ، طبع نور محمد کراچی)۔

