مکان،زمین،دُکاناوردُوسریچیزیںکرایہپردینا
مزارعتجائزہے
سوال:۔
اسلام میں مزارعت جائز ہے یا ناجائز ہے؟ ترمذی، ابنِ ماجہ، نسائی، ابوداؤد، مسلم اور بخاری کی بہت ساری احادیث سے پتا چلتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزارعت کو سودی کاروبار قرار دیا ہے، مثلاً: رافع بن خدیج کے صاحبزادے اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو ایک ایسے کام سے روک دیا ہے جو ہمارے لئے فائدہ مند تھا، مگر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہمارے لئے زیادہ فائدہ مند ہے (ابوداؤد)۔
ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک کھیت کے پاس سے ہوا، آپ نے پوچھا: یہ کس کی کھیتی ہے؟ عرض کیا: میری کھیتی ہے، تخم اور عمل میرا ہے اور زمین دُوسرے مالک کی۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے سودی معاملہ طے کیا ہے (ابوداؤد)۔
جواب:۔
شریعت میں مزارعت جائز ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں اور صحابہ کرامؓ کے عمل سے اس کا جواز ثابت ہے۔(۱) جن احادیث کا آپ نے حوالہ دیا ہے وہ ایسی مزارعت پر محمول ہیں جن میں غلط شرائط لگادی گئی ہوں۔
نوٹ:۔ بٹائی یا مزارعت سے متعلق تمام مشہور احادیث کی تفسیر اگلے سوال کے جواب میں ملاحظہ فرمالی جائے۔
- (۱) قال أبو جعفر: وما جاز أن تستأجر بہ الدور وغیرھا من دراھم أو دنانیر أو مکیل أو غیرہ، جاز إستئجار الأرض بہ للزرع وذٰلک لقول النبی صلی اللہ علیہ وسلم: ’’من استأجر أجیرًا فلیعلمہ أجرہ‘‘ یقتضی عمومہ جواز الْإجارۃ بأجر معلوم فی الأرضین وغیرھا، ویدل علیہ أیضًا: قولہ علیہ الصلاۃ والسلام: أعط الأجیر أجرہ قبل أن یجفَّ عَرَقُہ۔ وقال سعد ابن أبی وقاص: کنا نکری الأرض علی عھد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بما علی السواقی من الزرع، وبما صعد بالماء عنھا، فنھٰی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن ذالک، ورَخَّص لنا أن نکریھا بالذھب والورق، وإذا جازت إجارتھا بالذھب والورق، جازت بسائر الأشیاء المعلومۃ، لأن أحدًا لم یفرق بینھما، وخصّ الذھب والورق بالذکر من بین سائر ما تستأجر بہ الأرضون، لأنھما أثمان المبیعات، وما یجری علیہ التعامل من الأموال۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۳ ص:۴۱۳، ۴۱۴، کتاب المزارعۃ، طبع دار البشائر الْإسلامیۃ، أیضًا: در مختار ج:۶ ص:۲۷۵، کتاب المزارعۃ، طبع سعید)۔

