مکان،زمین،دُکاناوردُوسریچیزیںکرایہپردینا
زمینبٹائیپردیناجائزہے
سوال:۔
زمین داری یا بٹائی پر زمین کے خلاف اب تک جو شرعی دلائل سامنے آئے ہیں ان میں ایک دلیل یہ ہے کہ چونکہ یہ معاملہ سود سے ملتا جلتا ہے، جس طرح سودی کاروبار میں رقم دینے والا فریق بغیر کسی محنت کے متعین حصے کا حق دار رہتا ہے، اور نقصان میں شریک نہیں ہوتا، اسی طرح کاشت کے لئے زمین دینے والا جسمانی محنت کے بغیر متعین حصے (آدھا، تہائی) کا حق دار بنتا ہے اور نقصان سے اس کا کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ اسی طرح یہ معاملہ ’’سود‘‘ کے ضمن میں آجاتا ہے۔ کاشتکاری میں مالک کی زمین بالکل محفوظ ہوتی ہے، پھر وہ جب چاہے کاشت کار سے زمین لے سکتا ہے۔ زمین میں کاشت کی وجہ سے زمین کی قیمت، زرخیزی اور صلاحیت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی، جس قباحت کی وجہ سے سود ناجائز ہے، یہی قباحت بٹائی میں بھی موجود ہے۔ مندرجہ بالا دلیل میرے خیال میں مکان کرائے پر دینے پر بھی صادق آتی ہے، کیونکہ مالکِ مکان بغیر کسی محنت کے متعین کرایہ وصول کرتا ہے اور ملکیت بھی محفوظ رہتی ہے۔
جواب:۔
زمین کو ٹھیکے پر دینا اور مکان کا کرایہ لینا تو سب اَئمہ کے نزدیک جائز ہے،(۱) زمین بٹائی پر دینے میں اِختلاف ہے، مگر فتویٰ اسی پر ہے کہ بٹائی جائز ہے، اس کو ’’سود‘‘ پر قیاس کرنا غلط ہے، البتہ ’’مضاربت‘‘ پر قیاس کرنا صحیح ہے،(۲) اور مضاربت جائز ہے۔(۳)
- (۱) تصح إجارۃ حانوت أی دکان ودار ۔۔۔ وتصح إجارۃ أرض للزراعۃ مع بیان ما یزرع فیھا ۔۔۔إلخ۔ (درمختار ج:۶ ص:۲۷ تا ۲۹، باب ما یجوز من الْإجارۃ وما یکون خلافًا فیھا۔ (أیضًا ھدایۃ ج:۳ ص:۲۹۷، باب ما یجوز من الْإجارۃ وما یکون خلافا فیھا، عالمگیری ج:۴ ص:۴۳۹، کتاب الْإجارۃ، الباب الخامس عشر)۔
- (۲) ھی عقد علی الزرع ببعض الخارج ۔۔۔ ولَا تصح عند الْإمام لأنھا کقفیز الطحان وعندھما تصح وبہ یفتی للحاجۃ، وقیاسًا علی المضاربۃ ۔۔۔إلخ۔ (درمختار ج:۶ ص:۲۷۴، ۲۷۵، کتاب المزارعۃ، عالمگیری ج:۵ ص:۲۳۵)۔
- (۳) فالقیاس انہ لَا یجوز لأنہ إستئجار بأجر مجھول بل بأجر معدوم وبعمل مجھول لکنا ترکنا القیاس بالکتاب والسُّنۃ والْإجماع، أما الکتاب الکریم فقولہ عز شأنہ ﵟ وَءَاخَرُونَ يَضۡرِبُونَ فِي ٱلۡأَرۡضِ يَبۡتَغُونَ مِن فَضۡلِ ٱللَّهِ ﵞ المزمل ٢٠والمضارب یضرب فی الأرض یبتغی من فضل اللہ عزّ وجلّ۔ وأما السُّنَّۃ فما رویٰ عن ابن عباس رضی اللہ عنھما انہ قال: کان سیّدنا عباس بن عبدالمطلب إذا دفع المال مضاربۃ اشترط علٰی صاحبہ أن لَا یسلک بہ بحرًا ولَا ینزل بہ وادیًا ولَا یشتری بہ دابۃ ذات کبد رطبۃ، فإن فعل ذٰلک ضمن، فبلغ شرط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فأجاز شرطہ۔ وأما الْإجماع فإنہ رویٰ عن جماعۃ من الصحابۃ رضی اللہ عنھم أنھم دفعوا مال الیتیم مضاربۃ منھم سیّدنا عمر وسیّدنا عثمان وسیّدنا علی ۔۔۔ وسیّدتنا عائشۃ وغیرھم رضی اللہ عنھم أجمعین۔ (بدائع صنائع ج:۶ ص:۷۹، کتاب المضاربۃ، طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔

