مضاربتیعنیشراکتکےمسائل
کسیکوکاروبارکےلئےرقمدےکرمنافعلینا
سوال:۔
میرا مسئلہ یہ ہے کہ گھریلو اِخراجات کی زیادتی کی وجہ سے ہمارے والد صاحب نے جو کہ گھر کے واحد کفیل ہیں، یہ فیصلہ کیا ہے ہم اپنی جمع شدہ رقم ایک کاروباری شخص کو دیں گے، جس کو وہ کاروبار میں لگاکر ہمیں ہر سال منافع دے گا، جبکہ ہماری رقم جوں کی توں رہے گی۔ میں نے اس بات کی مخالفت کی ہے کیونکہ مجھ ناچیز کی معلومات کے مطابق یہ سود ہے، جبکہ ہمارے والد صاحب کا یہ کہنا ہے کہ میں اس رقم کو شادی بیاہ کے لئے تو نہیں دے رہا ہوں کہ بعد میں اس سے دُگنا کرکے یا اس سے زیادہ لوں، بلکہ جب وہ کمائے گا تو پھر دے گا۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ آج کے دور میں جبکہ کوئی دُوسرے کو روپیہ دینے کو بھی تیار نہیں ہے، تو کسی کو کیا ضرورت ہے کہ ہمیں منافع دے؟ خود اس کو منافع ہوگا تو دے گا۔ لیکن میں اپنی بات پر مصر ہوں۔ آپ سے اِلتماس ہے کہ برائے مہربانی دلائل کے ساتھ اس مسئلے کا حل دے دیجئے، کیونکہ میرے والد صاحب پیسہ رکھوانا چاہتے ہیں۔
جواب:۔
آپ کے والد صاحب کی یہ تدبیریں عاقلانہ ہیں کہ روپیہ کسی شخص کے ذریعے کاروبار میں لگادیا جائے، لیکن یہ بات ملحوظ رہنی چاہئے کہ کسی شخص کو کاروبار کے لئے رقم دینے کی دو صورتیں ہیں، ایک یہ کہ اس کے ساتھ یہ طے کرلیا جائے کہ ہر مہینے یا ہر سہ ماہی، ششماہی یا سال کے بعد اتنی رقم بطور منافع کے ہمیں دیا کروگے۔ مثلاً ایک لاکھ کی رقم اس کو دِی اور اس کے ساتھ یہ طے کرلیا کہ وہ ایک ہزار روپیہ ماہوار اس کا منافع دیا کرے گا۔ یہ صورت ناجائز ہے، کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے بارہ فیصد سالانہ سود پر اس کو رقم دی ہے، اور سود حرام ہے۔(۱)
دُوسری صورت یہ ہے کہ کسی کو رقم اس شرط پر دِی کہ وہ اس رقم کو کاروبار میں لگائے، اور اس سے اللہ تعالیٰ جو منافع عطا فرمائیں اس کو نصف نصف تقسیم کرلیا جائے، خواہ زیادہ منافع ہو یا کم۔ یہ صورت صحیح ہے۔ الغرض رقم پر متعین منافع (فکسڈ پرافٹ) مقرّر کرلینا سود ہے اور رقم سے حاصل ہونے والے منافع کو تقسیم کرنے کی شرح مقرّر کرلینا صحیح ہے۔ اپنے والد صاحب سے کہئے کہ وہ دُوسری صورت اِختیار کریں، پہلی نہیں۔(۲)
- (۱) ومن شرطھا أن یکون الربح بینھما مشاعًا لَا یستحق أحدھما منہ دراھم مسماۃ لأن شرط ذٰلک یقطع الشرکۃ ۔۔۔ قال فی شرحہ إذا دفع إلٰی رجل مالًا مضاربۃ علٰی أن ما رزق اللہ فللمضارب مأۃ درھم فالمضاربۃ فاسدۃ۔ (الجوھرۃ ص:۲۹۲، کتاب المضاربۃ)۔
- (۲) إذا دفع الرجل إلٰی غیرہ ألف درھم مضاربۃ علٰی أن للمضارب نصف الربح أو ثلثہ ولم یتعرض لجانب ربّ المال، فالمضاربۃ جائزۃ، وللمضارب ما شرط لہ والباقی لربّ المال ۔۔۔ وھٰکذا لو قال ربّ المال للمضارب علٰی رزق اللہ تعالٰی من الربح بیننا جاز ویکون الربح بینھما علی السواء۔ (عالمگیری ج:۴ ص:۲۸۸، کتاب المضاربۃ)۔

