بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مضاربت‌یعنی‌شراکت‌کے‌مسائل

تجارت‌کے‌لئے‌رقم‌دے‌کر‌ایک‌طے‌شدہ‌منافع‌وصول‌کرنا

سوال:۔

زید کو تجارت کے لئے رقم کی ضرورت ہے، وہ بکر سے اس شرط پر رقم لیتا ہے کہ زید ہر ماہ ایک طے شدہ رقم بکر کو دیتا رہے گا، جس کو منافع کا نام دیا جاتا ہے اور زید یہ کام صرف اس لئے کرتا ہے کہ وہ حساب کتاب رکھنے سے محفوظ رہے، بس بکر کو ایک طے شدہ رقم دیتا رہے، شرعاً اس کی کیا صورت ہوگی؟

جواب:۔

جو صورت آپ نے لکھی ہے تو یہ صریح سود ہے، جائز اور صحیح صورت یہ ہے کہ زید، بکر کے سرمائے سے تجارت کرے، اس میں جو منافع ہو اس منافع کو طے شدہ حصے کے مطابق تقسیم کرلیا جائے۔ مثلاً: دونوں کا حصہ منافع میں برابر ہوگا، یا ایک کا چالیس فیصد اور دُوسرے کا ساٹھ فیصد ہوگا۔(۱)

  1. (۱) الرابع: أن یکون الربح بینھما شائعًا کالنصف والثلث لَا سھما معینا یقطع الشرکۃ کمائۃ درھم أو مع النصف عشرۃ۔ (البحر الرائق ج:۷ ص:۲۶۴، کتاب المضاربۃ)۔