مضاربتیعنیشراکتکےمسائل
تجارتمیںشراکتنفعنقصاندونوںمیںہوگی
سوال:۔
شراکت کی تجارت میں اگر ایک شراکت دار بحیثیت رقم کے شریک ہو اور دُوسرا شریک بحیثیت محنت کے ہو تو یہ تجارت جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہے تو دونوں شریک نفع میں طے شدہ حصے کے صرف شریک ہیں یا نقصان میں بھی دونوں شریک ہوں گے؟
جواب:۔
پہلے یہ سمجھ لیجئے کہ آپ نے جس معاملے کو ’’شراکت کی تجارت‘‘ کہا ہے، فقہ میں اس کو ’’مضاربت‘‘ کہتے ہیں،(۱) اور یہ معاملہ جائز ہے۔(۲) اور نفع، نقصان میں شرکت کی تفصیل یہ ہے کہ کام کرنے والے کو اس تجارت میں یا تو نفع ہوگا، یا نقصان، یا نہ نفع ہوگا نہ نقصان۔
اگر نفع ہو تو اس منافع کو طے شدہ حصوں کے مطابق تقسیم کرلیا جائے،(۳) اگر نقصان ہوا تو یہ نقصان اصل سرمائے کا شمار ہوگا، کام کرنے والے کو اس نقصان کا حصہ ادا نہیں کرنا پڑے گا، مثلاً: پچاس ہزار کا سرمایہ تھا، تجارت میں گھاٹا پڑگیا تو یوں سمجھیں گے کہ اب سرمایہ چالیس ہزار رہ گیا۔ اب اگر دونوں اس معاملے کو ختم کردینا چاہتے ہیں تو صاحبِ مال کام کرنے والے سے دس ہزار میں سے کسی چیز کا مطالبہ نہیں کرسکتا، البتہ اگر آئندہ بھی اس معاملے کو جاری رکھنا چاہتے ہیں تو آئندہ جو منافع ہوگا پہلے اس سے اصل سرمائے کو پورا کیا جائے گا، اور جب سرمایہ پورا پچاس ہزار ہوجائے گا تو اب جو زائد منافع ہوگا اس کو طے شدہ حصے کے مطابق دونوں فریق تقسیم کرلیں گے۔
اور اگر کام کرنے والے کو نفع ہوا، نہ نقصان، تو کام کرنے والے کی محنت گئی اور صاحبِ مال کا منافع گیا۔(۴)
- (۱) کتاب المضاربۃ اما تفسیرھا شرعًا فھی عبارۃ عن عقد علی الشرکۃ فی الربح بمال من أحد الجانبین والعمل من جانب الآخر۔ (عالمگیری ج:۴ ص:۲۸۵، کتاب المضاربۃ، درمختار ج:۵ ص:۶۴۵، ھدایۃ ج:۳ ص:۲۵۷)۔
- (۲) فالقیاس أنہ لَا یجوز لأنہ إستئجار بأجر مجھول بل بأجر معدوم وبعمل مجھول لکنا ترکنا القیاس بالکتاب والسنۃ والْإجماع، اما الکتاب الکریم فقولہ عزَّ شأنہ: قَالَ تَعَالَىﵟ وَءَاخَرُونَ يَضۡرِبُونَ فِي ٱلۡأَرۡضِ يَبۡتَغُونَ مِن فَضۡلِ ٱللَّهِ ﵞ المزمل ٢٠ والمضارب یضرب فی الأرض یبتغی من فضل اللہ عزّ وجلّ۔ وقولہ سبحانہ وتعالٰی: قَالَ تَعَالَىﵟ فَإِذَا قُضِيَتِ ٱلصَّلَوٰةُ فَٱنتَشِرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَٱبۡتَغُواْ مِن فَضۡلِ ٱللَّهِ ﵞ الجمعة ١٠ وقولہ تعالٰی:ﵟ لَيۡسَ عَلَيۡكُمۡ جُنَاحٌ أَن تَبۡتَغُواْ فَضۡلٗا مِّن رَّبِّكُمۡۚ ﵞ البقرة ١٩٨۔ وأما السُّنَّۃ فما رویٰ عن ابن عباس رضی اللہ عنھما انہ قال: کان سیدنا العباس بن عبدالمطلب إذا دفع المال مضاربۃ إشترط علٰی صاحبہ أن لَا یسلک بہ بحرًا ولَا ینزل بہ وادیًا ولَا یشتری بہ دابۃ ذات کبد رطبۃ فإن فعل ذٰلک ضمن فبلغ شرطہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فأجاز شرطہ۔ وأما الْإجماع فانہ رویٰ عن جماعۃ من الصحابۃ رضی اللہ عنھم انھم دفعوا مال الیتیم مضاربۃ منھم سیّدنا عمر وسیّدنا عثمان وسیّدنا علی ۔۔۔ وسیّدتنا عائشۃ وغیرھم ولم ینقل أنہ أنکر علیھم من اقرانھم أحد۔ (بدائع صنائع ج:۶ ص:۷۹، کتاب المضاربۃ)۔
- (۳) المضاربۃ ۔۔۔ وفی الشرع عبارۃ عن عقد بین إثنین یکون من أحدھما المال ومن الآخر التجارۃ فیہ ویکون الربح بینھما ۔۔۔ قال رحمہ اللہ المضاربۃ عقد علی الشرکۃ من أحد الشریکین وعمل من الآخر، مرادہ الشرکۃ فی الربح ۔۔۔ ومن شرطھا أن یکون الربح بینھما مشاعًا لَا یستحق أحدھما منہ دراھم مسماۃ لأن شرط ذٰلک یقطع الشرکۃ ۔۔۔إلخ۔ (الجوھرۃ النیرۃ ج:۱ ص:۳۵۰، ۳۵۱ کتاب المضاربۃ)۔ الربا ھو فضل خال عن عوض بمعیار شرعی مشروط لأحد المتعاقدین فی المعاوضۃ۔ (درمختار ج:۵ ص:۱۶۸، باب الربا)۔
- (۴) وما ھلک من مال المضاربۃ فھو من الربح دون رأس المال لأن الربح تابع وصرف الھلاک إلٰی ما ھو التابع أولٰی کما یصرف الھلاک الی العفو فی الزکاۃ فإن زاد الھالک علی الربح فلا ضمان علی المضارب لأنہ أمین وإن کان یقتسمان الربح والمضاربۃ بحالھا ثم ھلک المال بعضہ أو کلہ تراد الربح حتّٰی یستوفی ربّ المال رأس المال وإذا استوفی رأس المال فإن فضل شیء کان بینھما لأنہ ربح وإن نقص فلا ضمان علی المضارب۔ (ھدایۃ ج:۳ ص:۲۶۷، کتاب المضاربۃ، أیضًا: شامی ج:۵ ص:۲۶۴، مطلب فی بیع المفضض والمزرکش وحکم علم الثوب)۔

