بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مضاربت‌یعنی‌شراکت‌کے‌مسائل

مال‌کی‌قیمت‌میں‌منافع‌پہلے‌شامل‌کرنا‌چاہئے

سوال:۔

مسئلہ یہ ہے کہ میں ایک دُکان دار کو دو ہزار کا مال دیتا ہوں، یہ دُکان دار مجھے ہر ماہ یا پندرہ دن کے بعد (جیسے مال ختم ہو) دو ہزار کے مال کے پیسے کے علاوہ ۱۵۰، ۲۵۰ یا ۳۰۰ روپے نفع دیتا ہے۔ ایک دن اس نے مجھ سے کہا کہ آپ مجھ سے ہر ماہ فکس دو سو روپے منافع کی رقم کے ساتھ لے لیا کریں۔ کیونکہ اس کو اس طرح ۱۵۰، ۲۵۰ یا ۳۰۰ روپے دینے سے زیادہ فائدہ نہیں ہوتا ہے۔ مجھے شک ہے کہ اس طرح فکس نفع لینے سے یہ سود تو نہیں ہوگا۔ اس طرح پیسہ کا نفع لینا میرے لئے جائز ہے کہ نہیں؟

جواب:۔

آپ مال پر جو نفع لینا چاہتے ہیں وہ قیمت میں شامل کرلیا کیجئے، مثلاً: دو ہزار کا مال دیا، اب اس پر آپ جتنے منافع کے خواہش مند ہیں اتنا منافع دو ہزار میں شامل کرکے یہ طے کردیا جائے کہ یہ اتنے کا مال دے رہا ہوں۔(۱)

  1. (۱) قال المظھری تحت قولہ تعالٰی: وحرم الربٰوا، طلب الزیادۃ بطریق التجارۃ غیر محرم فی الجملۃ قَالَ تَعَالَىﵟ لَيۡسَ عَلَيۡكُمۡ جُنَاحٌ أَن تَبۡتَغُواْ فَضۡلٗا مِّن رَّبِّكُمۡۚ ﵞ البقرة ١٩٨۔ (تفسیر مظھری ج:۱ ص:۳۹۹)۔ أیضًا: المرابحۃ نقل ما ملکہ بالعقد الأوّل بالثمن الأوّل مع زیادۃ ربح والتولیۃ نقل ما ملکہ بالعقد الأوّل بالثمن الأوّل من غیر زیادۃ والبیعان جائزان لِاستجماع شرائط الجواز والحاجۃ ماسۃ إلٰی ھٰذا النوع من البیع۔ (ھدایۃ ج:۳ ص:۷۱ باب المرابحۃ والتولیۃ)۔