بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مضاربت‌یعنی‌شراکت‌کے‌مسائل

مضاربت‌کی‌رقم‌کاروبار‌میں‌لگائے‌بغیر‌نفع‌لینا‌دینا

سوال:۔

میرے دوست کا ایک چھوٹا سا کاروبار چلتا ہے، میں نے اسے کچھ رقم مضاربت کے تحت فراہم کی، کچھ عرصے بعد پتا چلا کہ اس نے یہ رقم کاروبار میں نہیں لگائی، بلکہ ذاتی کاموں میں خرچ کر ڈالی، لیکن مجھے اس نے کاروبار کے نفع و نقصان میں شریک رکھا۔ مجھے جو منافع ملا ہے وہ حلال ہے یا نہیں؟

جواب:۔

جب اس نے یہ رقم کاروبار میں لگائی ہی نہیں تو کاروبار کا نفع، نقصان کہاں سے آیا جس میں اس نے آپ کو شریک کئے رکھا؟ اگر اس نے آپ کی رقم کے بدلے میں اتنی رقم کاروبار میں لگاکر آپ کو کاروبار میں شریک کرلیا تھا اور پھر اس کاروبار سے جو نفع ہوا اس میں سے طے شدہ شرح کے مطابق آپ کو حصہ دیتا رہا، تب تو یہ منافع حلال ہے۔(۱) اور اگر اس نے کاروبار میں اتنی رقم لگائی ہی نہیں، یا رقم تو لگائی لیکن منافع کا حساب کرکے آپ کو اس کا حصہ نہیں دیا، بلکہ رقم پر لگا بندھا منافع آپ کو دیتا رہا تو یہ سود ہے۔(۲)

  1. (۱) ولو قال علی ان لربّ المال نصفہ أو ثلثہ ولم یبین للمضارب شیئًا ففی الْإستحسان تجوز ویکون للمضارب الباقی بعد نصیب ربّ المال ھٰکذا فی المحیط۔ (عالمگیری ج:۴ ص:۲۸۸)۔ أیضًا: ھی عقد شرکۃ فی الربح بمال من وجہ وعمل من آخر وھی إیداع أولًا وتوکیل عند عملہ وشرکۃ إن ربح وغصب إن خالف۔ (شرح الوقایۃ ج:۳ ص:۲۵۸، کتاب المضاربۃ)۔
  2. (۲) قال فی المضاربۃ وشرطھا اُمور سبعۃ ۔۔۔ وکون الربح بینھما شائعًا فلو عین قدرًا فسدت۔ (درمختار ج:۵ ص:۶۴۵)۔ الرابع: أن یکون الربح بینھما شائعًا کالنصف والثلث لَا سھما معینا یقطع الشرکۃ کمائۃ درھم أو مع النصف عشرۃ۔ الخامس: أن یکون نصیب کل منھما معلومًا فکل شرط یؤدی إلٰی جھالۃ الربح فھی فاسدۃ ومالَا فلا مثل أن یشترط أن تکون الوضیعۃ علی المضارب أو علیھما فھی صحیحۃ وھو باطل۔ السادس: أن المشروط للمضارب مشروطًا من الربح حتّٰی لو شرطا لہ شیئًا من رأس المال أو منہ ومن الربح فسدت۔ (البحر الرائق ج:۷ ص:۲۶۴، کتاب المضاربۃ)۔