مضاربتیعنیشراکتکےمسائل
شراکتیکاروبارمیںنقصانکونبرداشتکرے؟
سوال:۔
دو شخص شراکتی بنیاد پر حصص میں کاروبار کرتے ہیں، ایک کا حصہ سرمایہ ۶۶فیصد ہے، دُوسرے کا ۳۳فیصد۔ ۳۳ فیصد والا کام کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ نقصان کی صورت میں صرف ۶۶ فیصد والا نقصان برداشت کرے نہ کہ ۳۳ فیصد والا، کیا اس کا یہ شرط لگانا شرعاً جائز ہے؟
جواب:۔
جس شریک کے ذمہ کام ہے، منافع میں اس کا حصہ اس کے سرمایہ کی نسبت زیادہ رکھنا صحیح ہے، مثلاً: ۶۶ فیصد اور ۳۳ فیصد والے کا منافع برابر رکھا جائے، لیکن اگر خدانخواستہ نقصان ہوجائے تو سرمائے کے تناسب سے دونوں کو برداشت کرنا ہوگا، ایک شخص کو نقصان سے بَری کردینے کی شرط صحیح نہیں۔(۱)
- (۱) کتاب المضاربۃ ۔۔۔ وحکمھا أنواع لأنھا إیداع إبتدائً) وفی الشامیۃ ۔۔۔ وکذا فی شرکۃ البزازیۃ حیث قال: وإن لأحدھما ألف ولآخر ألفان واشترکا واشترطا العمل علٰی صاحب الألف والربح أنصافًا جاز وکذا لو شرط الربح والوضیعۃ علٰی قدر المال والعمل من أحدھما بعینہ جاز ۔۔۔ والحاصل: أن المفھوم من کلامھم أن الأصل فی الربح أن یکون علٰی قدر المال إلّا إذا کان لأحدھما عمل فیصح أن یکون ربحًا بمقابلۃ عملہ۔ (الفتاوی الشامیۃ ج:۵ ص:۶۴۶ کتاب المضاربۃ)۔ أیضًا: وإن شرط الربح للعامل أکثر من رأس مالہ جاز علی الشرط ویکون المال الدافع عند العامل مضاربۃ۔ (فتاویٰ عالمگیری ج:۲ ص:۳۲۰)۔ والضیعۃ أبدًا علٰی قدر رؤس أموالھا۔ (أیضًا الفصل الثانی فی شرط الربح والضیعۃ)۔

