بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مضاربت‌یعنی‌شراکت‌کے‌مسائل

بکری‌کو‌پالنے‌کی‌شراکت‌کرنا

سوال:۔

محمد اقبال نے عبدالرحیم کو ایک بکری آدھی قیمت پر دی، عبدالرحیم کو کہا کہ: ’’میں اس کی آدھی قیمت نہیں لوں گا، آپ صرف اس کو پالیں، یہ بکری جو بچے دے گی ان میں جو مادہ ہوں گے ان میں دونوں شریک ہوں گے، باقی جو نر (مذکر) ہوں گے اس میں میرا حصہ نہیں ہوگا‘‘ شرعِ محمدی کے مطابق یہ محمد اقبال اور عبدالرحیم کی شراکت جس میں نر میں سے حصہ نہ دینے کی شرط لگائی ہے، کیا یہ صحیح ہے؟

جواب:۔

یہ شراکت بالکل غلط ہے، اوّل تو دو شریکوں میں سے ایک پر بکریوں کی پروَرِش کی ذمہ داری کیوں ڈالی جائے؟ پھر یہ شرط کیوں کہ بکری کے مادہ بچوں میں تو حصہ ہوگا، نر میں نہیں ہوگا؟(۱)

  1. (۱) الشرکۃ نوعان ۔۔۔ وشرکۃ عقد، وھی أن یقول أحدھما: شارکتک فی کذا، ویقول الآخر: قبلت ۔۔۔ وشرط جواز ھٰذہ الشرکات، کون المعقود علیہ عقد الشرکۃ قابلًا للوکالۃ کذا فی المحیط، وأن یکون الربح معلوم القدر فإن کان مجھولًا تفسد الشرکۃ، وأن یکون الربح جزأً شائعًا فی الجملۃ لَا معینًا فإن عینا عشرۃ أو مأۃ أو نحو ذٰلک کانت الشرکۃ فاسدۃ۔ (فتاویٰ عالمگیری، کتاب الشرکۃ ج:۲ ص:۳۰۱، ۳۰۲، طبع رشیدیہ کوئٹہ)۔