بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مضاربت‌یعنی‌شراکت‌کے‌مسائل

شراکت‌کی‌بنیاد‌پر‌کئے‌گئے‌کاروبار‌میں‌نقصان‌کیسے‌پورا‌کریں‌گے؟

سوال:۔

دو آدمی آپس میں شراکت کی بنیاد پر تجارت کرتے ہیں، جس کی صورت یہ ہے کہ ایک کی رقم ہے اور دُوسرے کی محنت، اور آپس میں نفع کی شرح طے ہے۔ کاروبار میں نقصان کی صورت میں نقصان کس تناسب سے تقسیم کیا جائے گا؟

جواب:۔

یہ صورت ’’مضاربت‘‘ کہلاتی ہے۔(۱) مضاربت میں اگر نقصان ہوجائے تو وہ رأس المال (یعنی اصل رقم جو تجارت میں لگائی گئی تھی) میں شمار کیا جائے گا۔ پس نقصان ہوجانے کی صورت میں اگر دونوں فریق آئندہ کے لئے معاملہ ختم کرنے کا فیصلہ کرلیں تو رقم والے کی اتنی رقم اور دُوسرے کی محنت گئی۔(۲) لیکن اگر آئندہ کے لئے وہ اس معاملے کو جاری رکھنا چاہیں تو آئندہ جو نفع ہوگا اس سے سب سے پہلے رأس المال کے نقصان کو پورا کیا جائے گا، اس سے زائد جو نفع ہوگا وہ دونوں، نفع کی طے شدہ شرح کے مطابق آپس میں تقسیم کرلیں گے۔

  1. (۱) کتاب المضاربۃ ۔۔۔ ھی شرعًا (عقد شرکۃ فی الربح بمال من جانب) ربّ المال (وعمل من جانب) المضارب (درمختار ج:۵ ص:۶۴۵، کتاب المضاربۃ، طبع سعید)۔ وفی الھدایۃ: المضاربۃ عقد یقع علی الشرکۃ بمالٍ من أحد الجانبین، ومرادہ الشرکۃ فی الربح وھو یستحق بالمال من أحد الجانبین والعمل من الجانب الآخر، ولَا مضاربۃ بدونھا۔ (ھدایۃ، کتاب المضاربۃ ج:۳ ص:۲۵۵، طبع ملتان، وأیضًا فی الفتاویٰ الھندیۃ ج:۴ ص:۲۸۵، کتاب المضاربۃ)۔
  2. (۲) وما ھلک من مال المضاربۃ یصرف إلی الربح لأنہ تبع فإن زاد الھالک علی الربح لم یضمن ولو فاسدۃ من عملہ لأنہ أمین وإن قسم الربح وبقیت المضاربۃ ثم ھلک المال أو بعضہ تراد الربح لیأخذ المالک رأس المال وما فضل بینھما وإن نقص لم یضمن لما مر۔ (درمختار ج:۵ ص:۶۵۶، ھدایۃ ج:۳ ص:۲۶۶)۔ أیضًا: الضرر والخسار یعود فی کل حال علٰی ربّ المال وإذا شرط کونہ مشترکًا بینہ وبین المضارب فلا یعتبر ذالک الشرط۔ (شرح المجلۃ ص:۷۵۷، المادّۃ:۱۴۲۸، الفصل الثالث فی بیان أحکام المضاربۃ)۔