بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مضاربت‌یعنی‌شراکت‌کے‌مسائل

شراکت‌کے‌کاروبار‌میں‌نفع‌و‌نقصان‌کا‌تعین‌قرعہ‌سے‌کرنا‌جوا‌ہے

سوال:۔

چند لوگ شراکت میں کاروبار کرتے ہیں اور سب برابر کی رقم لگاتے ہیں، طے یہ پاتا ہے کہ نفع و نقصان ہر ماہ قرعہ کے ذریعہ نکالا جائے گا، جس کے نام قرعہ نکلے گا وہ نفع و نقصان کا ذمہ دار ہوگا، خواہ ہر ماہ ایک ہی آدمی کے نام قرعہ نکلتا رہے، اس کو اعتراض نہ ہوگا۔ کیا شرع ایسے کاروبار کی اجازت دیتی ہے؟

جواب:۔

یہ جوا (قمار) ہے۔(۱)

  1. (۱) ﵟ إِنَّمَا ٱلۡخَمۡرُ وَٱلۡمَيۡسِرُ ﵞ المائدة ٩٠۔ وقال قوم من أھل العلم القمار کلہ من المیسر ۔۔۔ وھو السھام التی یجیلونھا فمن خرج سھمہ استحق منہ ما توجہ علامۃ السھم فربما أخفق بعضھم حتّٰی لَا یحظٰی بشیء وینجح البعض فیخطی بالسھم الوافر، وحقیقتہ تملیک المال علی المخاطرۃ، وھو أصل فی بطلان عقود التملیکات الواقعۃ علی الأخطار کالھبات والصدقات وعقود البیاعات ۔۔۔إلخ۔ (أحکام القرآن للجصاص ج:۲ ص:۴۶۵، سورۃ المائدۃ، طبع سہیل اکیڈمی)۔