مضاربتیعنیشراکتکےمسائل
شراکتمیںمقرّرہرقمبطورنفعنقصانطےکرناسودہے
سوال:۔
ایک شخص لاکھوں روپے کا کاروبار کرتا ہے، زید اس کو دس ہزار روپے کاروبار میں شرکت کے لئے دے دیتا ہے، اور اس کے ساتھ یہ طے پاتا ہے کہ منافع کی شکل میں وہ زید کو زیادہ سے زیادہ پانچ سو روپے ماہوار کے حساب سے دے گا، باقی سب نفع دُکان دار کا ہوگا۔ اسی طرح نقصان کی صورت میں زید کا نقصان کا حصہ زیادہ سے زیادہ پانچ سو روپے ماہوار ہوگا، باقی نقصان دُکان دار برداشت کرے گا۔ کیا ایسا معاہدہ شریعت میں جائز ہے؟ اگر جائز نہیں تو اس کو کس شکل میں تبدیل کیا جائے تاکہ یہ شرعی ہوجائے؟
جواب:۔
یہ معاملہ خالص سودی ہے۔(۱) ہونا یہ چاہئے کہ اس دس ہزار روپے کے حصے میں کل جتنا منافع آتا ہے اس کا ایک حصہ مثلاً: نصف یا تہائی زید کو دیا جائے گا۔(۲)
- (۱) الربا ھو الفضل المستحق لأحد المتعاقدین فی المعاوضۃ الخالی عن عوض شرط فیہ۔ (ھدایۃ ج:۳ ص:۸۰ باب الربا، طبع شرکت علمیہ، ملتان)۔ وھو فی الشرع عبارۃ عن فضل مال لَا یقابلہ عوض فی معاوضۃ مال بمال۔ (فتاویٰ عالمگیری ج:۳ ص:۱۱۷، کتاب البیوع، الباب التاسع، وھٰکذا فی الدر المختار ج:۵ ص:۱۶۸ باب الربا)۔
- (۲) ومن شرطھا أن یکون الربح بینھما مشاعًا لَا یستحق أحدھما دراھم مسماۃ من الربح لأن شرط ذٰلک یقطع الشرکۃ بیھما۔ (ھدایۃ ج:۳ ص:۲۵۶ کتاب المضاربۃ)۔ ویشترط أیضًا فی المضاربۃ أن یکون نصیب کل منھما من الربح معلومًا عند العقد ۔۔۔ ویشترط أیضًا أن یکون جزأً شائعًا کالنصف أو الثلث ۔۔۔ فلو شرط لأحدھما قدر معین کمأۃ مثلًا فسدت المضاربۃ ۔۔۔إلخ۔ (شرح المجلۃ ص:۷۴۷، المادۃ:۱۴۱۱، طبع حبیبیہ کوئٹہ)۔

