مضاربتیعنیشراکتکےمسائل
منافعاندازاًبتاکرتجارتمیںحصہداربنانا
سوال:۔
میرے ساتھ تجارت میں اگر کوئی شخص رقم لگانا چاہتا ہے تو میں اس کو منافع میں حصے کے بارے میں اندازاً اتنی رقم بتاتا ہوں جس کا ذِکر سن کر وہ شخص فوری طور پر کاروبار میں اپنی رقم لگانے پر آمادہ ہوجاتا ہے، اور میں اس سے رقم لے کر کاروبار میں لگادیتا ہوں۔ آپ سے گزارش ہے کہ قرآن وسنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں کہ اس طرح رقم لے کر اور منافع کی اندازاً مقدار بتاکر تجارت کرنا کیا صحیح ہے؟
جواب:۔
کسی سے رقم لے کر تجارت کرنا اور منافع میں سے اس کو حصہ دینا، اس کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ یہ بات طے کرلی جائے گی کہ تجارت میں جتنا نفع ہوگا، اس کا اتنے فیصد رقم والے کو ملے گا، اور اتنے فیصد کام کرنے والے کو، اور اگر خدانخواستہ خسارہ ہوا تو یہ خسارہ بھی رقم والے کو برداشت کرنا پڑے گا، یہ صورت تو جائز اور صحیح ہے۔(۱)
دُوسری صورت یہ ہے کہ تجارت میں نفع ہو یا نقصان، اور نفع کم ہو یا زیادہ، ہر صورت میں رقم والے کو ایک مقرّرہ مقدار میں منافع ملتا رہے، یہ صورت جائز نہیں، اسی لئے اگر آپ تجارت میں کسی اور کی رقم شامل کریں تو پہلی صورت کے مطابق معاملہ کریں۔(۲)
- (۱) ومن شرطھا (أی المضاربۃ) أن یکون الربح بینھما مشاعًا بحیث لَا یستحق أحدھما منہ دراھم مسماۃ ۔۔۔إلخ۔ (الجوھرۃ النیرۃ ج:۱ ص:۳۷۵، ۳۶۶، کتاب المضاربۃ)۔ وما ھلک من مال المضاربۃ فھو من الربح دون رأس المال ۔۔۔ فإن زاد الھالک علی الربح فلا ضمان علی المضارب لأنہ أمین۔ (ھدایۃ ج:۳ ص: ۲۶۷)۔ أیضًا: وفی الجلالیۃ کل شرط یوجب جھالۃ فی الربح أو یقطع الشرکۃ فیہ یفسد وإلّا بطلہ الشرط کشرط الخسران علی المضارب۔ (الدرالمختار مع رد المحتار ج: ۵ ص:۶۴۸ کتاب المضاربۃ)۔
- (۲) ایضا۔

