بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مضاربت‌یعنی‌شراکت‌کے‌مسائل

محنت‌ایک‌کی‌اور‌رقم‌دُوسروں‌کی‌ہو‌تو‌کیا‌یہ‌مضاربت‌ہے؟

سوال:۔

میرا ڈرائی فروٹ کا کاروبار ہے، مجھے کچھ لوگوں نے کاروبار کے لئے رقم دی ہوئی ہے، جس سے میں کاروبار کرتا ہوں، اور اس کا نفع ونقصان آدھا میرا اور آدھا اُن لوگوں کا ہے جن کی رقم ہے۔ کاروبار سارا میں کرتا ہوں، یعنی محنت میں کرتا ہوں اور سرمایہ ان کا ہے، اب ایک صاحب نے مجھے کہا ہے کہ یہ مضاربت کی صورت ہونی چاہئے یا شراکت کی، اور یہ صورت نہ مضارب ہے نہ شراکت۔ آپ جناب سے راہنمائی کا طالب ہوں کہ میں جس طرح کاروبار کر رہا ہوں، کیا یہ شرعی قوانین کی رُو سے کاروبار وتجارت جائز اور صحیح ہے؟

جواب:۔

جو صورت آپ نے لکھی ہے، یعنی رقم ایک کی یا چند آدمیوں کی ہو، اور آپ اس سے کاروبار کریں، یہ صورت مضاربت کہلاتی ہے، اور یہ جائز ہے۔(۱) واللہ اعلم!

  1. (۱) المضاربۃ ۔۔۔ فی الشرع عبارۃ عن عقد بین إثنین یکون من أحدھما المال ومن الآخر التجارۃ فیہ ویکون الربح بینھما۔ (الجوھرۃ النیرۃ ص:۲۹۲، کتاب المضاربۃ)۔ أیضًا: ھی شرکۃ فی الربح بمال من جانب وعمل من جانب فلو شرط کل الربح لأحدھما لَا یکون مضاربۃ ویجوز التفاوت فی الربح ۔۔۔ الرابع أن یکون الربح بینھما شائعًا کالنصف والثلث لَا سھمًا معینا یقطع الشرکۃ کمائۃ درھم أو مع النصف عشرۃ۔ (البحر الرائق ج:۷ ص:۲۶۳، ۲۶۴، کتاب المضاربۃ، طبع دار المعرفۃ، بیروت)۔