مضاربتیعنیشراکتکےمسائل
مضاربتکےمالکامنافعکیسےطےکیاجائے؟
سوال:۔
جیسا کہ آج کل ایک کاروبار بہت گردش میں ہے، وہ یہ کہ آپ اتنے پیسے کاروبار میں لگائیے اور اتنے فیصد منافع حاصل کیجئے۔ حالانکہ بیع مضاربت میں یہ ہے کہ نفع نقصان آدھا آدھا ہوتا ہے، جبکہ دُکان میں ہزاروں قسم کی اشیاء موجود ہوتی ہیں اور ہر ایک کا علیحدہ علیحدہ نفع لگانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ کیا ہم شریعت کی رُو سے یہ کرسکتے ہیں کہ ہر ماہ اپنی بکری کے لحاظ سے نفع کا اندازہ لگالیں اور پھر اس سے ہر ماہ کا نفع مقرّر کرلیں؟
جواب:۔
مضاربت میں ہر چیز کے الگ الگ منافع کا حساب لگانا ضروری نہیں، بلکہ کل مال کا ششماہی، سالانہ (جیسا بھی طے ہوجائے)، حساب لگاکر منافع تقسیم کرلیا جائے (جبکہ منافع ہو)۔(۱)
- (۱) فإذا ظھر الربح فھو شریکہ بحصتہ من الربح۔ (خلاصۃ الفتاویٰ ج:۴ ص:۱۸۸، کتاب المضاربۃ، الفصل الأوّل)۔ أیضًا: لو لم یظھر ربح لَا شیء علی المضارب۔ (البحر الرائق ج:۷ ص:۲۷۰، کتاب المضاربۃ)۔

