مضاربتیعنیشراکتکےمسائل
سودیکاروباروالیکمپنیمیںشراکتجائزنہیں
سوال:۔
ہم نے پچھلے سال چراٹ سیمنٹ کمپنی میں کچھ سرمایہ لگایا تھا، اور مزید لگانے کا خیال ہے، لیکن کمپنی کی سالانہ رپورٹ سے کچھ شکوک پیدا ہوئے، مبادا کہ ہمارا منافع سود بن جائے، اس لئے درج سوالوں کے جواب مرحمت فرمائیں:
الف:۔ کمپنی کچھ رقم بیمہ کو مشترکہ رقم سے ادا کرتی ہے، گویا کمپنی بیمہ شدہ ہے۔
ب:۔ کمپنی کچھ رقم سود کے طور پر ان بینکوں کو ادا کرتی ہے جن سے قرض لیا ہے۔
ج:۔ کمپنی کو کچھ رقم سود کے ذریعے سے حاصل ہوتی ہے۔
د:۔ حصہ داران اپنے حصے کسی دُوسرے فرد کو نفع کی صورت میں جب فروخت کرتے ہیں، مثلاً: دس روپے کا حصہ لیا تھا، اب پندرہ روپے کو فروخت کرتا ہے، اس بارے میں کیا حکم ہوگا؟ خدانخواستہ اگر مذکورہ احوال شرع کے خلاف ہوں تو حصے کمپنی کو واپس کرنے بہتر ہوں گے یا کسی عام فرد کے ہاتھ فروخت کرنا بہتر ہوگا؟
جواب:۔
جو کمپنی سودی کاروبار کرتی ہو، اس میں شراکت دُرست نہیں،(۱) کیونکہ اس سودی کاروبار میں تمام حصہ داران شریکِ گناہ ہوں گے۔(۲) کمپنی کا حصہ زیادہ قیمت پر فروخت کرنا جائز ہے۔(۳) آپ کی مرضی ہے، کمپنی کو واپس کردیں یا فروخت کردیں۔
قَالَ تَعَالَى ﵟ وَأَحَلَّ ٱللَّهُ ٱلۡبَيۡعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبَوٰاْۚ ﵞ البقرة ٢٧٥
قَالَ تَعَالَى ﵟ يٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ ٱلرِّبَوٰٓاْ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ ﵞ البقرة ٢٧٨
قَالَ تَعَالَى ﵟ فَإِن لَّمۡ تَفۡعَلُواْ فَأۡذَنُواْ بِحَرۡبٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦۖ ﵞ البقرة ٢٧٩
- (۱) قَالَ تَعَالَى ﵟ وَتَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡبِرِّ وَٱلتَّقۡوَىٰۖ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ ﵞ المائدة ٢
- (۲) وعن جابر قال: لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آکل الربا وموکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال ھم سواء۔ رواہ مسلم۔ (مشکٰوۃ ج:۱ ص:۲۴۴، باب الربا)۔ لأن ما یثبت للوکیل ینتقل إلی المؤکل فصار کأنہ باشرہ بنفسہ فلا یجوز۔ (ھدایۃ ج:۳ ص:۵۹، باب البیع الفاسد، طبع شرکت علمیہ ملتان)۔
- (۳) المرابحۃ نقل ما ملکہ بالعقد الأوّل بالثمن الأوّل مع زیادۃ ربح والتولیۃ ما ملکہ بالعقد الأوّل ۔۔۔ والبیعان جائزان لِاستجماع شرائط الجواز، والحاجۃ ماسۃ إلٰی ھٰذا النوع من البیع ۔۔۔إلخ۔ (ھدایۃ ج:۳ ص:۷۳ باب المرابحۃ والتولیۃ)۔

