بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مضاربت‌یعنی‌شراکت‌کے‌مسائل

شراکتی‌کمپنیوں‌کی‌شرعی‌حیثیت

سوال:۔

آج کل جو کاروبار چلا ہوا ہے کہ رقم کسی کمپنی میں شراکت داری کے لئے دے دیں اور ہر ماہ منافع لیتے رہیں، اس کے بارے میں کیا ارشاد ہے؟ ایک تو نفع و نقصان میں شراکت ہوتی ہے اور دُوسرا مقرّرہ ہوتا ہے، مثلاً ۵ فیصد۔

جواب:۔

اس سلسلے میں ایک موٹا سا اُصول ذکر کردینا چاہتا ہوں کہ اس کو جزئیات پر خود منطبق کرلیجئے۔

اوّل:۔ کسی کمپنی میں سرمایہ جمع کرکے اس کا منافع حاصل کرنا دو شرطوں کے ساتھ حلال ہے، ایک یہ کہ وہ کمپنی شریعت کے اُصول کے مطابق جائز کاروبار کرتی ہو، پس جس کمپنی کا کاروبار شریعت کے اُصولوں کے مطابق جائز نہیں ہوگا، اس سے حاصل ہونے والا منافع بھی جائز نہیں ہوگا۔(۱)

دوم:۔ یہ کہ وہ کمپنی اُصولِ مضاربت کے مطابق حاصل شدہ منافع کا ٹھیک ٹھیک حساب لگاکر حصہ داروں کو تقسیم کرتی ہو، پس جو کمپنی بغیر حساب کے محض اندازے سے منافع تقسیم کردیتی ہے، اس میں شرکت جائز نہیں۔ اسی طرح جو کمپنی اصل سرمائے کے فیصد کے حساب سے مقرّرہ منافع دیتی ہو، مثلاً: اصل رقم کا پانچ فیصد، اس میں بھی سرمایہ لگانا جائز نہیں، کیونکہ یہ سود ہے،(۲) اب یہ تحقیق خود کرلیجئے کہ کون سی کمپنی جائز کاروبار کرتی ہے اور اُصولِ مضاربت کے مطابق منافع تقسیم کرتی ہے۔

  1. (۱) ﵟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ كُلُواْ مِمَّا فِي ٱلۡأَرۡضِ حَلَٰلٗا طَيِّبٗا ﵞ البقرة ١٦٨۔ أیضًا: أن یکون التصرف مباحًا شرعًا فلا یجوز التوکیل فی فعل محرم شرعًا کالغصب أو الْإعتیاد علی الغیر۔ (الفقہ الْإسلامی وأدلّتہ ج:۴ ص:۱۵۴، باب الوکالۃ)۔ أیضًا: لأن ما یثبت للوکیل ینتقل إلی المؤکل فصار کأنہ باشرہ بنفسہ فلا یجوز۔ (ھدایۃ ج:۳ ص:۵۹ باب البیع الفاسد)۔
  2. (۲) ومن شرطھا (أی المضاربۃ) أن یکون الربح بینھما مشاعًا بحیث لَا یستحق أحدھما من دراھم مسماۃ ۔۔۔إلخ۔ (الجوھرۃ النیرۃ ج:۱ ص:۲۷۵، ۳۷۶ طبع حقانیہ ملتان، ھدایۃ ج:۳ ص:۲۵۶، باب المضاربۃ، طبع ملتان)۔ ولَا تجوز المضاربۃ علٰی أن لأحدھما دراھم معلومۃ، وذٰلک لأن ھٰذا یخرجھا عن باب الشرکۃ، بجواز أن لَا یربح إلّا ھٰذا القدر، ولَا یشارکہ الآخر فیہ، ومتی خرجت عن باب الشرکۃ، صارت إجارۃ، والْإجارۃ لَا تجوز إلّا بأجر معلوم ۔۔۔إلخ۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۳ ص:۳۶۷، ۳۶۸ کاب المضاربۃ، طبع دار السراج، بیروت)۔