بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حصص‌کا‌کاروبار

حصہ‌دار‌کمپنیوں‌کا‌منافع‌شرعاً‌کیسا‌ہے؟

سوال:۔

آج کل جو کمپنیاں کھلی ہیں، لوگ ان میں پیسہ جمع کرواتے ہیں، کچھ کمپنیاں ہر ماہ منافع کم زیادہ دیتی ہیں، اور کچھ کمپنیاں ہر ماہ متعین منافع دیتی ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کچھ یتیم، بیواؤں اور عام لوگوں کی آمدنی کا واحد ذریعۂ معاش یہی ہے، اب ہم نے جہاں بھی پڑھا کہ متعین سود ہے اور دُوسرا حلال ہے۔ آپ ہمیں ان حالات کے پیشِ نظر ایسا اسلامی طریقۂ کار بتائیے کہ سب لوگ زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرسکیں اور وہ سود نہ ہو۔ یہ بھی سنا ہے کہ ہم خود متعین کو اپنی ضروریات کے لئے رقم دیتے ہیں اور وہ اپنی خوشی سے متعین منافع دیتے ہیں، کیا یہ سود تو نہیں ہے؟

جواب:۔

کمپنی اپنے حصہ داروں کو جو منافع دیتی ہے اس کے حلال ہونے کی دو شرطیں ہیں۔ ایک یہ کہ کمپنی کا کاروبار شرعی اُصول کے مطابق جائز اور حلال ہو۔(۱) اگر کمپنی کا کاروبار شرعاً جائز نہیں ہوگا تو اس کا منافع بھی حلال نہیں ہوگا۔(۲) دُوسری شرط یہ ہے کہ وہ کمپنی باقاعدہ حساب کرکے حاصل ہونے والے منافع کی تقسیم کرتی ہو، اگر اصل رقم کے فیصد کے حساب سے منافع مقرّر کردیتی ہے تو یہ جائز نہیں، بلکہ سود ہے۔(۳)

  1. (۱) قَالَ تَعَالَى ﵟ كُلُواْ مِمَّا فِي ٱلۡأَرۡضِ حَلَٰلٗا طَيِّبٗا ﵞ البقرة ١٦٨۔ وعن عبداللہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: طلب کسب الحلال فریضۃ بعد الفریضۃ۔ (مشکوٰۃ ج:۱ ص:۲۴۲، باب الکسب وطلب الحلال)۔
  2. (۲) إذا بطل الشیء بطل ما فی ضمنہ۔ المادۃ:۵۲ (شرح المجلۃ لسلیم رستم باز ص:۴۱)۔ أیضًا: ما حرم فعلہ حرم طلبہ۔ (قواعد الفقہ ص:۱۱۰)۔ أیضًا: أن یکون التصرف مباحًا شرعًا فلا یجوز التوکیل فی فعل محرم شرعًا کالغصب أو الْإعتیاد علی الغیر۔ (الفقہ الْإسلامی وأدلّتہ ج:۴ ص:۱۵۴، باب الوکالۃ)۔
  3. (۳) وان یکون الربح معلوم القدر فإن کان مجھولًا تفسد الشرکۃ، وأن یکون الربح جزأً شائعًا فی الجملۃ لَا معینًا، فإن عینا عشرۃ أو مأۃ أو نحو ذٰلک کانت الشرکۃ فاسدۃ۔ (فتاویٰ عالمگیری ج:۲ ص:۳۰۲، کتاب الشرکۃ، الباب الأوّل)۔