بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حصص‌کا‌کاروبار

کس‌کمپنی‌کے‌حصص‌کی‌خریداری‌جائز‌ہے؟

سوال:۔

آج کل کاروباری ادارے مزید سرمایہ کاری کے لئے یا پھر نئے ادارے اپنا کاروبار شروع کرنے کے لئے لوگوں کو شیئرز فروخت کرتے ہیں۔ ان شیئرز کی قیمت عموماً دس روپے فی شیئر ہوتی ہے۔ اس لئے باقاعدہ بینکوں کے ذریعہ درخواستیں مانگی جاتی ہیں، اور بہت سی درخواستیں موصول ہونے پر بذریعہ قرعہ اندازی لوگوں کو جن کا نمبر قرعہ اندازی کے ذریعہ نکلتا ہے، شیئرز دے دئیے جاتے ہیں۔ قرعہ اندازی میں کھلنے پر اس کی قیمت دس روپے فی شیئر ہوتی ہے، لیکن اسٹاک مارکیٹ میں اس کی قیمت کمپنی کی مشہوری کی وجہ سے بڑھتی ہے اور بعض اوقات گھٹتی بھی ہے، یعنی کبھی شیئر ۹ روپے یا ۸ روپے کا بھی فروخت ہوتا ہے، کبھی ۲۰ روپے یا ۲۵ روپے کا بھی۔ شیئرز کو کھلی مارکیٹ میں فروخت بھی کیا جاسکتا ہے، اور اگر ان کو ایک خاص مدّت عموماً ۶ماہ تک رکھا جائے تو کمپنی عبوری منافع کا اعلان کرتی ہے، جو ایک خاص فیصد پر ہر ایک کو یعنی جس کے پاس ۱۰۰ شیئرز ہوں اس کو بھی اور جس کے پاس ۱۰۰۰ شیئرز ہوں اس کو بھی اسی حساب سے دیتی ہے، مسئلہ یہ ہے کہ اس طرح شیئرز کا خریدنا دُرست ہے یا نہیں؟

۲:۔ اگر خرید لئے تو کیا نفع یا نقصان کی بنیاد پر ان کو فروخت کرنا دُرست ہے یا نہیں؟

۳:۔ ان شیئرز کو اس نیت سے رکھنا کہ ان پر نفع ملے گا، دُرست ہے یا نہیں؟

۴:۔ نفع کا لینا دُرست ہے یا نہیں؟

جواب:۔

شیئرز (حصص) کی حقیقت ہے کمپنی میں شراکت حاصل کرنا۔ جس نے جتنے حصص خریدے وہ کل رقم کی نسبت سے اتنے حصے کا مالک اور کمپنی میں شریک ہوگیا۔ اب کمپنی نے کوئی مل، کارخانہ، فیکٹری لگائی تو اس شخص کا اس میں اتنا حصہ ہوگیا اور اس شخص کو اپنا حصہ فروخت کرنے کا اختیار ہے، لہٰذا حصص کی خرید و فروخت جائز ہے،(۱) مگر یہاں تین چیزیں قابلِ ذکر ہیں:

اوّل:۔ جب تک کمپنی نے کوئی مل یا کارخانہ نہیں لگایا، اس وقت تک حصص کی حیثیت نقد رقم کی ہے، اور دس روپے کی رقم کو ۹ یا ۱۱ روپے میں فروخت کرنا جائز نہیں، یہ خالص سود ہے۔(۲)

دوم:۔ عام طور سے ایسی کمپنیاں سودی کاروبار کرتی ہیں، جو گناہ ہے، اور اس گناہ میں تمام حصہ دار شریک ہوں گے۔(۳)

سوم:۔ کمپنی کی شراکت اس وقت جائز ہے جبکہ اس کے معاملات صحیح ہوں، اگر کمپنی کا کوئی معاملہ خلافِ شریعت ہوتا ہے، اور حصہ داروں کو اس کا علم بھی ہے تو حصہ دار بھی گناہگار ہوں گے، اور اس کمپنی میں شرکت کرنا جائز نہیں ہوگا۔(۴)

  1. (۱) اما شرکۃ العنان فتنعقد علی الوکالۃ دون الکفالۃ، وھی أن تشرک إثنان فی نوع بر أو طعام، أو یشترکان فی عموم التجارۃ۔ (ھدایۃ ج:۲ ص:۶۲۹، کتاب الشرکۃ، فتاویٰ ھندیۃ ج:۲ ص:۳۱۹، الباب الثالث شرکۃ العنان)۔
  2. (۲) قَالَ تَعَالَى ﵟ وَأَحَلَّ ٱللَّهُ ٱلۡبَيۡعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبَوٰاْۚ ﵞ البقرة ٢٧٥ والمعنٰی أن اللہ تعالٰی حرَّم الزیادۃ فی القرض علی القدر المدفوع والزیادۃ فی البیع لأحد البدلین علی الآخر۔ (تفسیر مظھری ج:۱ ص:۳۹۹، طبع مکتبہ اشاعت العلوم، دھلی)۔
  3. (۳) عن عبداللہ بن حنظلۃ غسیل الملائکۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: درھم ربا یأکلہ الرجل وھو یعلم أشد من ستۃ وثلاثین زنیۃ۔ (مشکٰوۃ ج:۱ ص:۲۴۵، باب الربا)۔ عن جابر قال: لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آکل الربا وموکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال: وھم سواء۔ رواہ مسلم۔ (مشکٰوۃ ج:۱ ص:۲۴۴، باب الربا)۔
  4. (۴)عن عبداللہ بن حنظلۃ غسیل الملائکۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: درھم ربا یأکلہ الرجل وھو یعلم أشد من ستۃ وثلاثین زنیۃ۔ (مشکٰوۃ ج:۱ ص:۲۴۵، باب الربا)۔ عن جابر قال: لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آکل الربا وموکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال: وھم سواء۔ رواہ مسلم۔ (مشکٰوۃ ج:۱ ص:۲۴۴، باب الربا)۔