بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حصص‌کا‌کاروبار

حصص‌کی‌خرید‌و‌فروخت‌کا‌شرعی‌حکم

سوال:۔

میں کمپنی شیئرز کی خرید و فروخت کرتا ہوں، جس میں نفع نقصان دونوں کا احتمال ہوتا ہے، اور کمپنیاں سال کے اختتام پر اپنے حصص یافتگان کو محدود منافع بھی تقسیم کرتی ہیں، جس کو ’’ڈیویڈنڈ‘‘ کہتے ہیں، کیا یہ کاروبار اور منافع جائز ہے؟

جواب:۔

کمپنی کی مثال ایسی ہے کہ چند آدمی مل کر شراکتی بنیاد پر دُکان کھول لیں، یا کوئی کارخانہ لگالیں، ان میں سے ہر شخص اس دُکان یا کارخانے میں اپنے حصے کے مطابق شریک ہوگا، اور اپنے حصے کے منافع کا حق دار ہوگا۔ اور ان میں سے ہر شخص کو اپنا حصہ کسی دُوسرے کے ہاتھ فروخت کرنے کا بھی اختیار ہوگا۔ یہی حیثیت کمپنی کے حصص کی بھی سمجھئے۔ اس لئے حصص کی خرید و فروخت جائز ہے۔(۱) البتہ اس کے لئے یہ شرط ہے کہ کمپنی کا کاروبار جائز اور حلال ہو، ناجائز اور حرام نہ ہو۔ جس کمپنی کا کاروبار ناجائز ہوگا اس کے حصص کی خرید جائز نہیں ہوگی، مثلاً: بینکوں کا نظام سود پر مبنی ہے، تو بینک کے حصص حرام ہوں گے۔(۲)

  1. (۱) أما شرکۃ العنان فتنعقد علی الوکالۃ دون الکفالۃ، وھی أن تشترک إثنان فی نوع بر أو طعام، أو یشترکان فی عموم التجارۃ۔ (ھدایۃ ج:۲ ص:۶۲۹، کتاب الشرکۃ، أیضًا: الھندیۃ ج:۲ ص:۳۱۹، الباب الثالث فی شرکۃ العنان)۔
  2. (۲) أن یکون التصرف مباحًا شرعًا فلا یجوز التوکیل فی فعل محرم شرعًا کالغصب أو الْإعتیاد علی الغیر۔ (الفقہ الْإسلامی وأدلّتہ ج:۴ ص:۱۵۴، باب الوکالۃ، طبع دار الفکر، بیروت)۔ أیضًا: لأن ما یثبت للوکیل ینتقل إلی المؤکل فصار کأنہ باشرہ بنفسہ فلا یجوز۔ (ھدایۃ ج:۳ ص:۵۹، باب البیع الفاسد، طبع مکتبہ شرکت علمیہ ملتان)۔