بیعانہ
سودافسخکرکےبیعانہکاڈبلجرمانہوصولکرنا
سوال:۔
آپ نے ایک دفعہ لکھا تھا کہ سودے میں بیعانہ کی رقم سودا کینسل ہونے پر ڈَبل لینا جائز نہیں ہے، جو شخص معاہدہ توڑ کر وعدہ خلافی کرتا ہے، سودا منظور کرنے کے بعد کینسل کرکے فریقِ مخالف کو سخت ذہنی اذیت اور مالی پریشانی میں مبتلا کرتا ہے، اس پر جرمانے کے طور پر ڈبل رقم لینا کیوں جائز نہیں ہے؟ وعدہ خلافی معاہدہ توڑ کر کسی مسلمان بھائی کو اَذیت میں مبتلا کرنے والے کو سرزنش اور نصیحت کس طرح ہو؟ وہ اس طرح ہر ایک کے ساتھ زیادتی روا رکھے گا۔
جواب:۔
مسئلہ یہی ہے کہ اگر سودا ہوگیا تو طرفین سے رقم اور چیز پر قبضہ ہوجانے کے بعد تو دوبارہ سودا کرنا صحیح ہے، لیکن اگر سودا فسخ کردیا جائے تو اس پر جرمانہ لگانا جائز نہیں، جس فریق کو پریشانی ہو رہی ہے، وہ اس کے سودے کو فسخ نہ کرنے دے۔(۱)
- (۱) لَا یجوز لأحد من المسلمین أخذ مال أحد بغیر سبب شرعی۔ (فتاویٰ شامی ج:۴ ص:۶۱)۔ أیضًا: بیع العربان ۔۔۔ وإنما صار الجمھور إلٰی منعہ لأنہ من باب الغرر والمخاطرۃ وأکل مال بغیر عوض۔ (بدایۃ المجتھد ج:۲ ص:۱۲۲ الباب الرابع فی بیوع الشرط والثنیا، طبع دار الکتب العلمیۃ، لَاھور)۔

