بیعانہ
مکانکابیعانہدےکرکوئیسوداچھوڑدےتوکیاحکمہے؟
سوال:۔
میرے ایک قریبی دوست نے اپنے ایک مکان کی فروخت کے لئے زَرِ بیعانہ وصول کیا، مگر بعد اَزاں خریدار سودے سے مکر گیا، اس صورت میں اس معاہدے اور خرید وفروخت کے حوالے سے زَرِ بیعانہ کے بارے میں کیا حکم ہے؟
جواب:۔
مسئلہ یہی ہے کہ اگر معاہدے کے بعد مشتری (خریدار) اس چیز کو نہ لے سکے تو فروخت کنندہ کے لئے بیعانہ حلال نہیں، اس کو واپس کردے۔ اور ہمارے ہاں بیعانہ (ایڈوانس) ضبط کرلینے کا جو رِواج ہے، یہ غلط ہے، اور اگر قانون بھی اس رِواج کی تائید کرتا ہے تو شریعت کی نظر میں یہ قانون بھی غلط ہے۔(۱)
- (۱) نھٰی عن العربان أن یقدم إلیہ بشیء من الثمن فإن اشتریٰ حسب من الثمن وإلّا فھو مجانًا وفیہ معنی المیسر۔ (حجۃ اللہ البالغۃ ج:۲ ص:۳۲۲ مبحث البیوع المنھی عنھا، طبع بیروت)۔

