بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

بیعانہ

اگر‌مالک‌معلوم‌نہ‌ہو‌تو‌بیعانہ‌کی‌رقم‌کا‌کیا‌کریں؟

سوال:۔

ہماری ایک فیکٹری ہے، جس میں مختلف قسم کی اشیاء تیار کی جاتی ہیں، دُور ونزدیک کے تاجر حضرات اپنی ضرورت کی اشیاء کا آرڈر دے جاتے ہیں، کچھ رقم پیشگی بیعانہ کے طور پر دے جاتے ہیں، جب مال تیار ہوجاتا ہے تو پوری ادائیگی کرکے اپنا مال لے جاتے ہیں۔ بسااوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ آرڈر دینے والے کو ہم ذاتی طور پر نہیں جانتے، وہ شخص بیعانہ دے کر چلا جاتا ہے، اس کا مال تیار ہوجاتا ہے، مگر وہ مال لینے نہیں آتا، نہ ہی بیعانہ کی رقم واپس لینے آتا ہے۔ ہمارے پاس اس کا پتا بھی نہیں ہوتا، ہم اِنتظار کرتے رہتے ہیں، کچھ عرصہ بعد اس کا سامان تو فروخت کردیتے ہیں، مگر بیعانہ کی رقم کا کیا کریں؟ کیا کسی فلاحی اِدارے یا کسی مسجد مدرسہ میں جمع کروادیں؟ کیا اس طرح ہم بری الذمہ ہوجائیں گے؟

جواب:۔

اگر مالک کے آنے کی توقع نہ ہو، نہ اس کا پتا معلوم ہو تو اس کی طرف سے یہ رقم کسی مستحق کو صدقہ کردی جائے، بعد میں اگر مالک آجائے اور اپنی رقم کا مطالبہ کرے تو اس کو دینا واجب ہوگا، اور یہ صدقہ آپ کی طرف سے شمار کیا جائے گا۔(۱)

  1. (۱) فإن جاء صاحبھا وإلّا تصدق بھا إیصالًا للحق إلی المستحق وھو واجب بقدر الْإمکان ۔۔۔ فإن جاء صاحبھا یعنی بعد ما تصدق بھا فھو بالخیار، إن شاء أمضی الصدقۃ ولہ ثوابھا ۔۔۔ وإن شاء ضمّن الملتقط۔ (ھدایۃ ج:۲ ص:۶۱۵، کتاب اللقطۃ)۔