بیعانہ
بیعانہکیرقمکاکیاکریںجبکہمالکواپسنہآئے؟
سوال:۔
زید کے پاس ایک لوہے کا کارخانہ ہے، جس میں لوگوں کے آرڈر پر مختلف قسم کی چیزیں تیار کی جاتی ہیں اور آرڈر دینے والے لوگ کچھ پیسے بھی پیشگی دیتے ہیں، اور مال تیار ہونے پر مکمل قیمت ادا کرکے لے جاتے ہیں۔ لیکن ان میں بعض ایسے لوگ بھی ہیں جو کہ مال کے لئے آرڈر دینے اور پیشگی پیسے دئیے جانے کے بعد پھر واپس نہیں آتے، نہ مال لینے آتے ہیں اور نہ پیسہ لینے، اور نہ ہی مالکِ کارخانہ کو ان لوگوں کے پتے وغیرہ معلوم ہیں، اس لئے ان کے گھر جاکر واپس کرنے کی صورت بھی نہیں تو کارخانہ کا مالک چاہتا ہے کہ جو پیسے اس کے پاس اس طریقے سے جمع ہوگئے ہیں اَز رُوئے شرع کسی صحیح مصرف میں خرچ کردئیے جائیں، اس لئے جواب طلب اَمر یہ ہے کہ ان رُقومات کے صحیح مصرف بتادیجئے تاکہ موصوف اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوسکے۔
جواب:۔
اگر مالک کے آنے کی توقع نہ ہو، نہ اس کا پتا معلوم ہو تو اس کی طرف سے یہ رقم کسی مستحق پر صدقہ کردی جائے۔ بعد میں اگر مالک آجائے اور وہ اپنی رقم کا مطالبہ کرے تو اس کو دینا واجب ہوگا، اور یہ صدقہ کارخانہ دار کی طرف سے شمار کیا جائے گا۔(۱)
- (۱) قال فی الدر: إن علم أن صاحبھا لَا یطلبھا أو إنھا تفسد إن بقیت کالأطعمۃ والثمار کانت أمانۃ ۔۔۔ فینتفع الرافع بھا لو فقیرًا وإلّا تصدق بھا علٰی فقیر ۔۔۔ فإن جاء مالکھا بعد التصدق خیّر بین إجازۃ فعلہ ولو بعد ھلاکھا ولہ ثوابھا أو تضمینہ۔ (درمختار، باب اللقطۃ ج:۴ ص:۲۷۸ تا ۲۸۰، ھدایۃ ج:۲ ص:۶۱۵، کتاب اللقطۃ)۔

