بیعانہ
مکانکاایڈوانسواپسلینا
سوال:۔
عبدالستار نے ایک مکان کا سودا عبدالمجیب سے کیا، سودا طے ہوگیا، عبدالستار نے ایڈوانس پچّیس ہزار روپے مکان والے کو دے دئیے اور مہینے کے اندر قبضہ لینا طے ہوگیا۔ اس کے بعد عبدالستار کی مالی حالت خراب ہونے کی وجہ سے طے شدہ میعاد کے اندر مکان کا قبضہ نہ لے سکا اور نہ لے سکتا ہے۔ اب عبدالستار یہ چاہتا ہے کہ اس کی ایڈوانس رقم پچّیس ہزار روپے واپس کی جائے، عبدالمجیب ایڈوانس رقم دینے سے ٹال مٹول کر رہا ہے۔ شریعت کی رُو سے بتایا جائے کہ کیا عبدالمجیب ایڈاونس رقم کھاسکتا ہے یا کہ نہیں؟ آج کل ایسے معاملات بہت لوگوں کو پیش آتے ہیں۔
جواب:۔
یہ رقم جو پیشگی لی گئی تھی، عبدالمجیب کے لئے حلال نہیں، اسے واپس کرنی چاہئے۔(۱)
- (۱) بیع العربان، وصورتہ أن یشتری الرجل شیئًا فیدفع إلی المبتاع من ثمن ذالک المبیع شیئًا علٰی أنہ إن نفذ البیع بینھما کان ذالک المدفوع من ثمن السلعۃ وإن لم ینفذ ترک المشتری بذالک الجزء من الثمن عند البائع ولم یطالبہ بہ وإنما صار الجمھور إلٰی منعہ لأنہ من باب الغرر والمخاطرۃ وأکل مالٍ بغیر عوض۔ (بدایۃ المجتھد ج:۲ ص:۱۲۲ الباب الرابع، فی بیوع الشروط والثنیا، طبع المکتبۃ العلمیۃ لَاھور)۔

