بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

بیعانہ

دُکان‌کا‌بیعانہ‌اپنے‌پاس‌رکھنا‌جائز‌نہیں

سوال:۔

میں نے ایک دُکان کرایہ پر دینے کے لئے ایک شخص عبدالجبار سے معاہدہ کیا، اور بطور بیعانہ ایک ہزار روپے لیا، اب عبدالجبار سے معاہدہ ختم کرلیا ہے، اور میں نے دُکان دُوسرے کو دے دی ہے، کیا میں نے جو عبدالجبار سے بیعانہ کے ایک ہزار لئے تھے، وہ واپس کردئیے جائیں یا میں اپنے پاس رکھ لوں؟

جواب:۔

وہ ایک ہزار روپیہ آپ کس مد میں اپنے پاس رکھیں گے؟ اور آپ کے لئے وہ کیسے حلال ہوگا؟ یعنی اس رقم کا واپس کرنا ضروری ہے۔(۱)

  1. (۱) بیع العربان، وصورتہ أن یشتری الرجل شیئًا فیدفع إلی المبتاع من ثمن ذالک المبیع شیئًا علٰی أنہ إن نفذ البیع بینھما کان ذالک المدفوع من ثمن السلعۃ وإن لم ینفذ ترک المشتری بذالک الجزء من الثمن عند البائع ولم یطالبہ بہ وإنما صار الجمھور إلٰی منعہ لأنہ من باب الغرر والمخاطرۃ وأکل مالٍ بغیر عوض۔ (بدایۃ المجتھد ج:۲ ص:۱۲۲ الباب الرابع، فی بیوع الشروط والثنیا، طبع المکتبۃ العلمیۃ لَاھور)۔