بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

بیعانہ

بیعانہ‌کی‌رقم‌واپس‌کرنا‌ضروری‌ہے

سوال:۔

میں نے اپنے پیارے دوست حاجی عبدالصمد صاحب کی دُکان پر ایک مشین فروخت کرنے کے لئے رکھی، چار سو روپے قیمت مقرّر کردی، حاجی صاحب کو فروخت کرنے کا مناسب معاوضہ دینے کا وعدہ بھی کیا۔ ان کے پاس دس دن کے بعد ایک گاہک نے مقرّرہ قیمت پر خریدی، مگر اس طرح کہ ۲۰ روپے بطور بیعانہ دے کر چار دن کے اندر قیمت ادا کرکے مال لے جانے کا وعدہ کرکے چلا گیا۔ دس دن گزرنے کے بعد آیا، اس عرصے میں وعدہ کے چار دن پورے ہونے پر مشین دُوسرے گاہک کو فروخت کردی گئی۔ آپ ہمیں برائے مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں یہ بتادیجئے کہ بیعانے کے ۲۰ روپے واپس کرنے ہیں یا نہیں؟ اور حاجی صاحب کو فروخت کرنے کا معاوضہ (جس کو عرفِ عام میں دلالی یا کمیشن کہتے ہیں) شریعت کی رُو سے کیا فیصد دینا چاہئے؟

جواب:۔

بیعانے کی رقم واپس کرنا ضروری ہے۔(۱) حاجی صاحب کا معاوضہ ان سے پہلے طے کرنا چاہئے تھا، بہرحال اب بھی رضامندی سے طے کرلیجئے۔(۲)

  1. (۱) عن عمرو بن شعیب عن أبیہ عن جدّہ رضی اللہ عنہ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نھٰی عن بیع العربان۔ (إعلاء السُّنن ج:۱۴ ص:۱۶۶ کتاب البیوع، باب النھی عن بیع العربان، طبع إدارۃ القرآن)۔ نھٰی عن العربان، أن یقدم إلیہ شیء من الثمن فإن اشتریٰ حسب من الثمن وإلّا فھو لہ مجانًا وفیہ معنی المیسر۔ (حجۃ اللہ البالغۃ، مبحث البیوع المنھی عنھا ج:۲ ص:۳۲۲ طبع آرام باغ کراچی)۔ أیضًا: ومن ھٰذا الباب بیع العربان فجمھور علماء الأمصار علٰی أنہ غیر جائز ۔۔۔ وصورتہ أن یشتری الرجل شیئًا فیدفع المبتاع من ثمن ذٰلک المبیع شیئًا علٰی أنہ إن نفذ البیع بینھما کان ذٰلک المدفوع من ثمن السلعۃ، وإن لم ینفذ ترک المشتری بذٰلک الجزء من الثمن عند البائع، ولم یطالبہ بہ، وإنما صار الجمھور إلٰی منعہ، لأنہ من باب الغرر والمخاطرۃ وأکل مالٍ بغیر عوض۔ (بدایۃ المجتہد لِابن رُشد ج:۲ ص:۱۲۲ الباب الرابع فی بیوع الشروط والثنیا، طبع المکتبۃ العلمیۃ لَاہور، پاکستان)۔
  2. (۲) وقال فی الدر المختار: تفسد الْإجارۃ بالشروط المخالفۃ لمقتضی العقد فکل ما أفسد البیع مما مر (یفسدھا) کجھالۃ مأجورٍ أو أجرۃ أو مدّۃ أو عمل۔ قال الشامی: (قولہ أو مدۃ) قال فی البزازیۃ إجارۃ السمسار والمنادی والحمامی والصکاک وما لَا یقدر فیہ الوقت ولَا العمل تجوز لما کان للناس بہ حاجۃ ویطیب الأجر المأخوذ لو قدر أجر المثل۔ (شامی ج:۶ ص:۴۷ باب إجارۃ الفاسدۃ، طبع ایچ ایم سعید)۔