ذخیرہاندوزی
کھانےپینےکیاشیاءاورکیمیکلذخیرہکرنا
سوال:۔
کھانے پینے، دواؤں اور ٹیکسٹائل میں اِستعمال ہونے والے کیمیکل پہلے سے منگواکر رکھ لئے جاتے ہیں، اور سیزن شروع ہونے پر جس وقت قیمتیں بڑھ جاتی ہیں، اس وقت ان کو مارکیٹ میں بیچا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ اس طرح کیمیکل کا اسٹاک روک کر رکھنے سے مارکیٹ میں اس کی قلّت پیدا نہیں ہوتی، اور سیزن نہ ہونے کی وجہ سے قیمتیں گری ہوتی ہیں اور ڈیمانڈ بھی کم ہوتی ہے، اس لئے کاروباری لوگ ان دنوں میں یہ کیمیکل کم قیمت پر منگواکر اسٹاک رکھتے ہیں اور زیادہ قیمت ہونے پر سیزن میں ڈیمانڈ بڑھنے پر بیچ دیتے ہیں۔ منافع کی خاطر اس طرح کیمیکل کا ذخیرہ کرنا اور سیزن کے وقت بیچ کر منافع کمانا حلال ہے یا نہیں؟
جواب:۔
جائز ہے، بشرطیکہ بازار میں ان چیزوں کی قلّت نہ ہو، اگر بازار میں قلّت ہو اور لوگ اس کی وجہ سے پریشان ہوں تو اس ذخیرے کو منظرِ عام پر لانا ضروری ہے۔(۱)
- (۱) وکرہ إحتکار قُوْت البشر والبھائم فی بلد یضرّ بأھلہ لحدیث الجالب مرزوق والمحتکر ملعون، فإن لم یضر لم یکرہ۔ (بحر الرائق ج:۸ ص:۲۲۹، کتاب الکراھیۃ، فصل فی البیع، طبع دار المعرفۃ، بیروت)۔ قال: ویکرہ الْإحتکار والتلقی فی الموضع الذی یضر ذالک بأھلہ، ولَا نریٰ بأسًا فی موضع لَا یضر ذالک بأھلہ، وذالک لما روی عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی النھی عن الحُکْرۃ وعن تلقی الرکبان، وھٰذا محمول علٰی حال یضر فیھا ذالک بأھلہ، وإذا لم یضر بأھلہ فلا حق فیہ ولَا یکرہ، لما روی عن النبی علیہ الصلٰوۃ والسلام أنہ قال: دعُوا الناس یرزق اللہ بعضھم من بعض، فأباح الربح فی ذالک۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۸ ص:۵۴۶، کتاب الکراھیۃ)۔

