ذخیرہاندوزی
کمپنیسےسستےداموںمشروباسٹاککرکےاصلریٹپرفروختکرنا
سوال:۔
سال میں ایک مرتبہ مشروبات کمپنیوں کی طرف سے دُکان دار حضرات کے لئے یہ اسکیم پیش کی جاتی ہے کہ اگر وہ طے کردہ دنوں میں مشروب خریدتے ہیں تو انہیں رعایت دی جائے گی۔ دُکان دار حضرات کافی مقدار میں مشروب اسٹاک کرلیتے ہیں۔ اسکیم کے ختم ہونے کے بعد وہی پُرانے دام ہوجاتے ہیں، اس طرح دُکان دار کو زیادہ منافع ملتا ہے، لیکن گاہک کو کوئی اضافی قیمت نہیں دینی پڑتی۔ اس طرح دُکان داروں کا وافر مقدار میں اسٹاک رکھنا جائز ہے یا نہیں؟ اور کیا اس پر ملنے والا زائد منافع جائز ہے؟ جبکہ اس اسکیم سے گاہک کو کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔
جواب:۔
اگر چیز کی قلّت پیدا نہ ہو اور صارفین کو کوئی پریشانی لاحق نہ ہو تو سستے داموں زیادہ چیز خریدنے کا کوئی جرم نہیں۔(۱)
- (۱) وکرہ إحتکار قُوْت البشر والبھائم فی بلد یضرّ بأھلہ لحدیث الجالب مرزوق والمحتکر ملعون، فإن لم یضر لم یکرہ۔ (بحر الرائق ج:۸ ص:۲۲۹، کتاب الکراھیۃ، فصل فی البیع، طبع دار المعرفۃ، بیروت)۔ قال: ویکرہ الْإحتکار والتلقی فی الموضع الذی یضر ذالک بأھلہ، ولَا نریٰ بأسًا فی موضع لَا یضر ذالک بأھلہ، وذالک لما روی عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی النھی عن الحُکْرۃ وعن تلقی الرکبان، وھٰذا محمول علٰی حال یضر فیھا ذالک بأھلہ، وإذا لم یضر بأھلہ فلا حق فیہ ولَا یکرہ، لما روی عن النبی علیہ الصلٰوۃ والسلام أنہ قال: دعُوا الناس یرزق اللہ بعضھم من بعض، فأباح الربح فی ذالک۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۸ ص:۵۴۶، کتاب الکراھیۃ)۔

