بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ذخیرہ‌اندوزی

جس‌ذخیرہ‌اندوزی‌سے‌لوگوں‌کو‌تکلیف‌ہو‌وہ‌بُری‌ہے

سوال:۔

ذخیرہ اندوزی کا کیا حکم ہے؟

جواب:۔

ذخیرہ اندوزی کی کئی صورتیں ہیں، اور ہر ایک کا حکم جدا ہے۔ ایک صورت یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی زمین کا غلہ روک رکھے اور فروخت نہ کرے، یہ جائز ہے۔(۱) لیکن اس صورت میں گرانی اور قحط کا انتظار کرنا گناہ ہے،(۲) اور اگر لوگ تنگی میں مبتلا ہوجائیں تو اس کو اپنی ضرورت سے زائد غلہ کے فروخت کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔(۳)

دُوسری صورت یہ ہے کہ کوئی شخص غلہ خرید کر ذخیرہ کرتا ہے، اور جب لوگ قحط اور قلّت کا شکار ہوجائیں تب بازار میں لاتا ہے، یہ صورت حرام ہے۔(۴) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ملعون قرار دیا ہے۔(۵)

تیسری صورت یہ ہے کہ بازار میں اس جنس کی فراوانی ہے اور لوگوں کو کسی طرح کی تنگی اور قلّت کا سامنا نہیں، ایسی حالت میں ذخیرہ اندوزی جائز ہے،(۶) مگر گرانی کے انتظار میں غلے کو روک رکھنا کراہت سے خالی نہیں۔(۷)

چوتھی صورت یہ ہے کہ انسانوں یا چوپایوں کی خوراک کی ذخیرہ اندوزی نہیں کرتا، اس کے علاوہ دیگر چیزوں کی ذخیرہ اندوزی کرتا ہے، جس سے لوگوں کو تنگی لاحق ہوجاتی ہے، یہ بھی ناجائز ہے۔(۸)

  1. (۱) (لَا غلۃ ضیعتہ وجلبہ من بلد آخر) یعنی لَا یکرہ إحتکار غلۃ أرضہ وما جلبہ من بلد آخر لأنہ خالص حقہ فلم یتعلق بہ حق العامۃ فلا یکون إحتکار ألَا تریٰ ان لہ ان لَا یزرع ولَا یجلب فکذا لہ ان لَا یبیع ۔۔۔إلخ۔ (البحر الرائق ج؛۸ ص:۲۲۹ فصل فی البیع، کتاب الکراھیۃ، طبع دار المعرفۃ، بیروت)۔
  2. (۲) ویقع التفاوت فی المأثم بین أن یتربص العسرۃ وبین أن یتربص القحط والعیاذ باللہ۔ (البحر الرائق ج:۸ ص:۲۲۹ فصل فی البیع، کتاب الکراھیۃ، طبع دار المعرفۃ، بیروت)۔
  3. (۳) ویجب أن یأمر القاضی ببیع ما فضل عن قُوْت أھلہ فإن لم یبع عزرہ وباع القاضی علیہ طعامہ وفاقًا۔ (درمختار ج:۶ ص:۳۹۹)۔
  4. (۴) وفی المحیط: الْإحتکار علٰی وجوہ أحدھما حرام وھو أن یشتری فی المصر طعامًا ویمتنع عن بیعہ عند الحاجۃ إلیہ۔ (البحر الرائق ج:۸ ص:۲۲۹)۔ أیضًا: الْإحتکار مکروہ، وإنہ علٰی وجوہ: أحدھا: أن یشتری طعامًا فی مصر أو ما أشبہ ویحبسہ ویمتنع من بیعہ، وذٰلک یضر بالناس فھو مکروہ۔ (المحیط البرھانی فی الفقہ النعمانی ج:۸ ص:۲۶۶، کتاب البیوع، فصل فی الْإحتکار، طبع مکتبہ غفاریہ کوئٹہ)۔
  5. (۵) عن عمر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: الجالب مرزوق والمحتکر ملعون۔ (مشکٰوۃ ص:۲۵۱)۔
  6. (۶) قال: ویکرہ الْإحتکار والتلقی فی الموضع الذی یضر ذالک بأھلہ، ولَا نریٰ بأسًا فی موضع لَا یضر ذالک بأھلہ، وذالک لما روی عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی النھی عن الحُکْرۃ وعن تلقی الرکبان، وھٰذا محمول علٰی حال یضر فیھا ذالک بأھلہ، وإذا لم یضر بأھلہ فلا حق لأحد فیہ، ولَا یکرہ لما روی عن النبی علیہ الصلٰوۃ والسلام أنہ قال: دعوا الناس یرزق اللہ بعضھم من بعض، فأباح الربح فی ذالک، والبیع بما یرید من الثمن إذا لم یضر بأھل البلد۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۸ ص:۵۴۶، کتاب الکراھیۃ)۔
  7. (۷) ایضا۔
  8. (۸) وقال أبو یوسف: کل ما یضر العامۃ فھو إحتکار بالأقوات کان أو ثیابًا أو دراھم أو دنانیر إعتبار الحقیقۃ الضرر لأنہ ھو المؤثر فی الکراھۃ۔ (البحر الرائق ج:۸ ص:۲۲۹، فصل فی البیع، طبع دار المعرفۃ بیروت)۔