بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ذخیرہ‌اندوزی

ذخیرہ‌اندوزی‌کرنا‌شرعاً‌کیسا‌ہے؟

سوال:۔

بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کوئی کمپنی اپنا مال مارکیٹ میں خوب مہیا کرکے کاروباری حضرات کو خصوصی مراعات دے کر اپنا مال فروخت کرنا چاہتی ہے۔ ایسے موقع سے فائدہ اُٹھاکر کاروباری حضرات اس مال کو ذخیرہ کرلیتے ہیں اور جب مارکیٹ میں یہ مال کچھ وقت کے بعد کم ہوجاتا ہے تو کاروباری حضرات زیادہ قیمت پر مال فروخت کرتے ہیں اور زیادہ منافع کماتے ہیں۔ کیا اس طرح منافع کمانا جائز ہے یا نہیں؟

جواب:۔

ایسی ذخیرہ اندوزی جس سے لوگوں کو تکلیف اور پریشانی ہو، حرام ہے۔(۱) حدیث میں ایسی ذخیرہ اندوزی کرنے والے کو ملعون فرمایا ہے۔(۲) البتہ اگر لوگوں کو تنگی نہ ہو تو ذخیرہ اندوزی جائز ہے،(۳) مگر چونکہ یہ شخص گرانی کا منتظر رہے گا، اس لئے اس کا یہ فعل کراہت سے خالی نہیں۔(۴)

  1. (۱) وفی المحیط: الْإحتکار علٰی وجوہ أحدھا حرام وھو أن یشتری فی المصر طعامًا ویمنع عن بیعہ عند الحاجۃ إلیہ۔ (بحر الرائق ج:۸ ص:۲۲۹، کتاب الکراھیۃ، فصل فی البیع)۔
  2. (۲) عن عمر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: الجالب مرزوق والمحتکر ملعون۔ (مشکٰوۃ ص:۲۵۱)۔ أیضًا: عن معمر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من احتکر فھو خاطیٔ۔ رواہ مسلم۔ وفی حاشیۃ المشکٰوۃ: قولہ من احتکر الْإحتکار المحرم ھو فی الأقوات الخاصۃ بأن یشتری الطعام فی وقت الغلاء ولَا یبیعہ فی الحال بل یدخرہ لیغلوا فأما إذا جاء من قریۃ أو اشتراہ فی وقت الرخص وادخرہ وباعہ فی وقت الغلاء فلیس بإحتکار ولَا تحریم فیہ۔ (مشکٰوۃ ص:۲۵۰، باب الْإحتکار)۔
  3. (۳) وکرہ إحتکار قُوْت البشر والبھائم فی بلد یضر بأھلہ لحدیث الجالب مرزوق والمحتکر ملعون، فإن لم یضر لم یکرہ۔ (بحر الرائق ج:۸ ص:۲۲۹، الدر المختار ج:۶ ص:۳۹۸ کتاب الحظر والْإباحۃ)۔
  4. (۴) وکرہ إحتکار قُوْت البشر والبھائم فی بلد یضر بأھلہ لحدیث الجالب مرزوق والمحتکر ملعون، فإن لم یضر لم یکرہ۔ (بحر الرائق ج:۸ ص:۲۲۹، الدر المختار ج:۶ ص:۳۹۸ کتاب الحظر والْإباحۃ)۔