بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مال‌قبضے‌سے‌قبل‌فروخت‌کرنا

ایک‌چیز‌خریدنے‌سے‌پہلے‌اس‌کا‌آگے‌سودا‌کرنا

سوال:۔

زید نے بکر سے ایک مال مانگا، لیکن وہ مال بکر کے پاس نہیں ہے، عمرو کے پاس ہے، بکر کے عمرو سے اچھے تعلقات ہیں، کیونکہ بکر کا عمرو سے کم و بیش ہمیشہ کاروبار رہتا ہے، اس لئے عمرو، بکر سے خصوصی رعایت رکھتا ہے، بازار میں دام زیادہ ہوتے ہیں لیکن بکر کے لئے رعایت ہے۔ بکر، عمرو سے کم دام پر مال لے کر بازار کے نرخ پر زید کو فروخت کرسکتا ہے یا نہیں؟ اس میں یہ بات واضح رہے کہ بکر کو اس مال کی اس وقت ضرورت نہیں ہے، اور اس کے پاس مال بھی نہیں ہے، زید اس سے مانگ رہا ہے اور بکر، عمرو سے بعد میں معاملہ کرتا ہے، اس سے پہلے وہ زید کے ساتھ یہ معاملہ کرچکا ہوتا ہے، اس اُمید پر کہ عمرو کے پاس مال ہے اور اس سے کم دام میں مل جائے گا، لہٰذا یہ معاملہ شرعی نقطۂ نگاہ سے کیسا ہے؟

جواب:۔

جو چیز بکر کے پاس موجود نہیں، اس کی بیع کیسے کرسکتا ہے؟ اس لئے بیع تو صحیح نہیں،(۱) البتہ بیع کا وعدہ کرسکتا ہے کہ میں یہ چیز اتنے داموں میں مہیا کردُوں گا۔

  1. (۱) عن ابن عباس یقول: اما الذی نھی عنہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم فھو الطعام أن یباع حتّٰی یقبض، قال ابن عباس: ولَا أحسب کل شیء إلّا مثلہٗ۔ وعن ابن عمر أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: من اتباع طعامًا فلا یبیعہ حتّٰی یستوفیہ وزاد إسماعیل من اتباع طعامًا فلا یبیعہ حتّٰی یقبضہ ۔۔۔إلخ۔ (صحیح بخاری ج:۱ ص:۲۸۶)۔