بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مال‌قبضے‌سے‌قبل‌فروخت‌کرنا

بغیر‌دیکھے‌مال‌خریدنا‌اور‌قبضے‌سے‌پہلے‌آگے‌بیچنا

سوال:۔

ہمارے زمانے میں مال خرید و فروخت کے وقت سامنے نہیں ہوتا، بلکہ نام یا مارکہ سے بکتا ہے۔ آیا یہ جائز ہے یا نہیں؟ یا مال کا سامنے ہونا ضروری ہے؟ خریدار مال خرید لیتا ہے جس کے بعد قبضے میں آنے سے پہلے ہی اس کی فروخت بھی شروع کردیتا ہے۔ شرعاً اس کا کیا جواز ہے؟

جواب:۔

بغیر دیکھے خریدنا جائز ہے، دیکھنے کے بعد اگر مال مطلوبہ معیار کا نہ نکلا تو خریدار کو سودا ختم کرنے کا اختیار ہوگا،(۱) لیکن جس چیز پر قبضہ نہیں ہوا اس کو فروخت کرنا جائز نہیں، قبضے کے بعد فروخت کرنے کی اجازت ہے۔(۲)

  1. (۱) وقال فی الھدایۃ: ومن اشتری شیئًا لم یراہ فالبیع جائز ولہ الخیار إذا رآہ إن شاء أخذہ بجمیع الثمن وإن شاء ردہ۔ (ھدایۃ آخرین ج:۳ ص:۳۵)۔
  2. (۲) عن عمرو ابن دینار سمع طاؤسًا یقول: سمعت ابن عباس یقول: اما الذی نھی عنہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم فھو الطعام ان یباع حتّٰی یقبض، قال ابن عباس: ولَا أحسب کل شیء إلّا مثلہ، وعن ابن عمر أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: من ابتاع طعامًا فلا یبعہ حتّٰی یستوفیہ۔ وزاد إسماعیل: من ابتاع طعامًا فلا یبیعہ حتّٰی یقبضہ ۔۔۔إلخ۔ (صحیح بخاری ج:۱ ص:۲۸۶)۔ أیضًا: ومن اشتریٰ شیئًا مما ینقل ویحول لم یجز بیعہ حتّٰی یقبضہ۔ (الجوھرۃ النیرۃ ج:۱ ص:۲۱۲، کتاب البیوع، باب المرابحۃ والتولیۃ، طبع بمبئی)۔