بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مال‌قبضے‌سے‌قبل‌فروخت‌کرنا

قبضے‌سے‌پہلے‌مال‌فروخت‌کرنا‌دُرست‌نہیں

سوال:۔

میرا کاروبار سوت کا ہے، میں نے کارخانے یا کسی بیوپاری سے کچھ مال خریدا، مال موجود لیکن میں نے ابھی قیمتِ خرید ادا نہیں کی، اور نہ ہی مال وصول کیا ہے۔ اب میں اس مال کو کسی پر فروخت کردیتا ہوں اور پھر بعد میں قیمتِ خرید و فروخت کا آپس میں لین دین ہوجاتا ہے۔ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ میں کسی سے یعنی جس کو میں نے مال بیچا ہے اس سے قیمت لے کر پھر کارخانے دار یا بیوپاری کو ادا کردیتا ہوں، جس سے میں نے خریدا ہے، اس کاروبار میں مجھے نفع بھی ہوتا ہے اور نقصان بھی، کیا یہ کاروبار میرے لئے دُرست ہے یا نہیں؟

جواب:۔

چونکہ ابھی تک مال پر قبضہ نہیں ہوا، اس لئے اس کو فروخت کرنا دُرست نہیں۔(۱)

  1. (۱) عن عمرو ابن دینار سمع طاؤسًا یقول: سمعت ابن عباس یقول: اما الذی نھی عنہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم فھو الطعام ان یباع حتّٰی یقبض، قال ابن عباس: ولَا أحسب کل شیء إلّا مثلہ، وعن ابن عمر أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: من ابتاع طعامًا فلا یبعہ حتّٰی یستوفیہ۔ وزاد إسماعیل: من ابتاع طعامًا فلا یبیعہ حتّٰی یقبضہ ۔۔۔إلخ۔ (صحیح بخاری ج:۱ ص:۲۸۶)۔ أیضًا: ومن اشتریٰ شیئًا مما ینقل ویحول لم یجز بیعہ حتّٰی یقبضہ۔ (الجوھرۃ النیرۃ ج:۱ ص:۲۱۲، کتاب البیوع، باب المرابحۃ والتولیۃ، طبع بمبئی)۔