مالقبضےسےقبلفروختکرنا
جہازپہنچنےسےقبلمالفروختکرناکیساہے؟
سوال:۔
پارٹی نے مال باہر سے منگوایا، اس کے آنے میں باہر سے وقت صرف ہوجاتا ہے، صورت اس کی یہ ہوتی ہے کہ وہاں سے وہ مال جس جہاز پر آنا ہوتا ہے اس کی اطلاع یہاں پارٹی کو آجاتی ہے کہ فلاں ماہ، فلاں جہاز میں آپ کا مال بُک ہوجائے گا، (مختلف وجوہات کی بنا پر اس میں دیر سویر بھی ہوتی رہتی ہے)، لیکن یہاں منگوانے والی پارٹیاں جہاز کے نام سے مال پہلے ہی فروخت کردیتی ہیں کہ فلاں مال، فلاں جہاز پر آرہا ہے، اس کا سودا ہوتا ہے، تو شرعاً یہ سودا منعقد ہوجاتا ہے یا نہیں؟ اور اس قسم کی خرید و فروخت جائز ہے یا نہیں؟
جواب:۔
یہ مسئلہ بینک کی حیثیت کے تعین پر موقوف ہے، اگر بینک خریدار کی حیثیت سے وکیل ہے اور بینک کا نمائندہ باہر ملک میں مال کو اپنی تحویل میں لے کر روانہ کرتا ہے، تو چونکہ وکیل کا قبضہ خود مؤکل کا قبضہ ہے، اس لئے مال پہنچنے سے پہلے اس کو فروخت کرنا جائز ہے،(۱) اور اگر بینک خریدار کا وکیل نہیں ہوتا تو اس کو مال کی فروخت قبضے سے پہلے جائز نہیں۔(۲)
- (۱) وقال فی الھدایۃ: لأن یدہ کید المؤکل فإذا لم یحبسہ یصیر المؤکل قابضًا بیدہ۔ (ھدایۃ ج:۳ ص:۱۸۳، کتاب الوکالۃ)۔ أیضًا: فیسلم المبیع ویقبض الثمن ویطالب بالثمن إذا اشتری ویقبض المبیع ویخاصم فی العیب لأن کل ذالک من الحقوق والملک یثبت للمؤکل خلافۃ عنہ إعتبارًا للتوکیل السابق کالعبد ینھب ویصطاد ومعنی قولھم خلافۃ عنہ أی یثبت الملک أولًا للوکیل ولَا یسقر بل ینتقل إلی الموکل ساعتہ۔ (الجوھرۃ النیرۃ ج:۱ ص:۳۰۱، کتاب الوکالۃ)۔
- (۲) عن ابن عباس یقول: اما الذی نھی عنہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم فھو الطعام أن یباع حتّٰی یقبض، قال ابن عباس: ولَا أحسب کل شیء إلّا مثلہ۔ وعن ابن عمر أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: من اتباع طعامًا فلا یبیعہ حتّٰی یستوفیہ وزاد إسماعیل: من اتباع طعامًا فلا یبیعہ حتّٰی یقبضہٗ ۔۔۔إلخ۔ (صحیح البخاری ج:۱ ص:۲۸۶)۔ وعن ابن عمر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لَا یحل سلف ۔۔۔ ولَا بیع ما لیس عندک۔ (أبو داوٗد ج:۲ ص:۱۳۹)۔

