مالقبضےسےقبلفروختکرنا
مالقبضہکرنےسےقبلفروختکرنااورذخیرہاندوزی
سوال:۔
زید نے بکر سے (جو بیرونِ ملک ہے) مال خریدا اور بکر نے جہاز سے زید کو روانہ کردیا، جہاز سمندر میں تھا، زید نے سامان کا کچھ حصہ حارث کو اس دن کے بھاؤ سودا کردیا اور رقم کا کچھ حصہ بطور ایڈوانس زید کو ادا کردیا، جبکہ حارث مال کے اس حصے کی رقم زید کو اس وقت دے گا جب زید اسے یہ مال حوالے کرے گا۔
۱:۔ جس وقت جہاز زید کے ملک پہنچا اس وقت بھاؤ حارث کی طے شدہ قیمتِ خرید سے زیادہ تھا، تو حارث کو کون سی قیمت زید کو ادا کرنی چاہئے، موجودہ یا طے شدہ؟
۲:۔ جب جہاز زید کے ملک میں آگیا، تو اس وقت مارکیٹ میں بھاؤ حارث کی طے شدہ قیمتِ فروخت سے کم تھا، تو کیا حکم ہے؟
۳:۔ جہاز کے زید کے ملک آنے سے قبل حارث، نعمان، وارث اور دیگر چھ مزید پارٹیوں کے سودے ہوئے، درجہ بدرجہ مال نعیم کے پاس جب پہنچا تو قیمت کہیں سے کہیں پہنچ گئی تھی، اور سب نے اپنا اپنا حصہ غائبانہ سودے سے وصول کیا، دس میں نو پارٹیوں نے جو رقم منافع میں وصول کی وہ کہاں تک جائز ہوگی؟ اور کیا اس طرح سودا کرنا جائز اور حلال ہوگا؟ کاروبار میں جب بڑی پارٹی کوئی شے زیادہ مقدار میں خریدتی ہے تو چھوٹے بیوپاری اندازہ کرلیتے ہیں کہ اس کی قیمت بڑھنے والی ہے، وہ بھی منافع کی خاطر اپنی بساط کے مطابق خرید لیتے ہیں، پھر بیچ دیتے ہیں، یہ منافع ان کے لئے دُرست ہے؟ کیا یہ ذخیرہ اندوزی ہے؟ یہ ایک حدیث پاک ہے جس کا مفہوم اس طرح ہے کہ چالیس روز تک اجناس کو محض اس لئے روکے رکھنا کہ قیمت بڑھ جائے یہ اَمر اللہ پاک کے یہاں اتنا بڑا ہے کہ تاجر اگر سارا مال اللہ کی راہ میں صدقہ کردے تو بھی یہ گناہ معاف نہیں ہوگا۔
۴:۔ صحیح حدیث کیا ہے؟ آیا یہ ہدایت عام دنوں کے لئے بھی ہے یا صرف قحط کے دوران کے لئے ہے؟
جواب۱:۔
تجارت کا اُصول ہے کہ جو مال قبضہ میں نہ آئے اس کا فروخت کرنا دُرست نہیں، لہٰذا جو مال ابھی تک زید کی ملک میں نہیں آیا اس کو فروخت نہیں کرسکتا، زید اور اس کے بعد جتنے لوگ مال قبضے میں آنے سے قبل غیرمقبوض مال کو فروخت کریں گے سب کی بیع ناجائز ہے۔(۱) البتہ زید دُوسرے لوگوں سے بیع کا وعدہ کرسکتا ہے کہ مال جب قبضے میں آئے گا تو اس وقت کی قیمت کے لحاظ سے اس کو فروخت کرے گا۔
جواب۲:۔
چونکہ پہلا سودا قابلِ فسخ ہے، اس لئے دوبارہ مال قبضے میں آنے کے بعد قیمت مقرّر کرکے سودا کرنا چاہئے،(۲) اگر غلطی سے سابقہ سودے کو برقرار رکھا تو گناہ ہوگا، البتہ قیمت وہی ہوگی جو پہلے دونوں نے طے کی تھی۔(۳)
جواب۳:۔
سارے کاروبار ناجائز ہیں، اس لئے سودے منسوخ کئے جائیں،(۴) مال زید کے قبضے میں آنے کے بعد دوبارہ قیمت مل کرکے معاملہ طے کریں۔
جواب۴:۔
ذخیرہ اندوزی اسلام میں ناجائز ہے، غیراِنسانی رویہ ہے۔ حدیث میں ہے: ’’جو شخص اجناس اس لئے محفوظ کرتا ہے کہ قیمت بڑھ جائے تو فروخت کروں، تو وہ گناہ گار ہے، ملعون ہے، اللہ کے ذمہ سے وہ شخص بری ہے، تمام مال خرچ کرے گا تو تلافی نہ ہوگی۔‘‘ حدیث شریف قحط اور غیرقحط دونوں کے لئے ہے، البتہ قحط کے زمانے میں مال محفوظ کرنا زیادہ بدتر ہے، کیونکہ ذخیرہ اندوزی سے غریبوں کو تکلیف ہوتی ہے۔(۵)
- (۱) عن عمرو ابن دینار سمع طاؤسًا یقول: سمعت ابن عباس یقول: اما الذی نھی عنہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم فھو الطعام ان یباع حتّٰی یقبض، قال ابن عباس: ولَا أحسب کل شیء إلّا مثلہ وعن ابن عمر أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: من ابتاع طعامًا فلا یبیعہ حتّٰی یستوفیہ۔ وزاد إسماعیل: من ابتاع طعامًا فلا یبیعہ حتّٰی یقبضہ ۔۔۔إلخ۔ (صحیح بخاری ج:۱ ص:۲۸۶)۔ عن حکیم ابن حزام قال: یا رسول اللہ! یأتی الرجل فیرید منی البیع ما لیس عندی فابتاع لہ من السوق، فقال: لَا تبع ما لیس عندک ۔۔۔إلخ۔ (ترمذی ج:۱ ص:۲۳۳)۔ وعن ابن عمر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لَا یحل سلف ۔۔۔ ولَا یبیع ما لیس عندک۔ (أبو داوٗد ج:۲ ص:۱۳۹)۔ (بطل بیع ما لیس بمال ۔۔۔ وبیع ما لیس فی ملکہ لبطلان بیع المعدوم ومآلہ خطر العدم، قال الشامی (قولہ لبطلان) إذا من شرط المعقود علیہ أن یکون موجودًا مالًا متقوّمًا مملوکًا فی نفسہ وأن یکون ملک البائع فیما یبیعہ لنفسہ وأن یکون مقدور التسلیم۔ (الشامی ج:۵ ص:۵۸، النتف فی الفتاویٰ ص:۲۹۰)۔ ومن اشتریٰ شیئًا مما ینقل ویحول لم یجز بیعہ حتّٰی یقبضہ لأنہ نھی عن بیع ما لم یقبض، ولأن فیہ غرر انفساخ العقد علٰی إعتبار الھلاک۔ (ھدایۃ ج:۳ ص:۷۷، کتاب البیوع، باب المرابحہ والتولیۃ، طبع مکتبہ شرکت علمیہ ملتان، الجوھرۃ النیرۃ ج:۱ ص:۲۱۲، کتاب البیوع، باب المرابحۃ، طبع مجتبائی دھلی)۔
- (۲) ویجب علٰی کل واحد منھا فسخہ قبل القبض أی فسخ البیع الفاسد أو بعد ما دام المبیع بحال فی ید المشتری إعدامًا للفساد لأنہ معصیۃ فیجب رفعھا۔ (رد المحتار ج:۵ ص:۹۰،۹۱، باب البیع الفاسد)۔ أیضًا: ولکل منھما فسخہ یعنی علٰی کل واحد منھما فسخہ، لأن رفع الفساد واجب علیھما۔ (تبیین الحقائق ج:۴ ص:۴۰۲، باب البیع الفاسد)۔
- (۳) وإذا قبض المشتری المبیع فی البیع الفاسد بإذن البائع وفی العقد عوضان کل واحد منھما مال ملک المبیع ولزمتہ قیمتہ یعنی إذا کان العوض مما لہ قیمۃ۔ (الجوھرۃ النیرۃ ج:۱ ص:۲۰۷، باب البیع الفاسد، طبع دھلی)۔
- (۴) قال الحنفیۃ: لَا یجوز التصرف فی المبیع المنقول قبل القبض، لأن النبی صلی اللہ علیہ وسلم نھی عن بیع ما لم یقبض والنھی یوجب فساد المنھی عنہ ولأنہ بیع فیہ غرر الْإنفساخ بھلاک المعقود علیہ أی أنہ یحتمل الھلاک فلا یدری المشتری ھل یبقی المبیع أو یھلک قبل القبض، فیطل البیع الأوّل وینفسخ الثانی، وقد نھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن بیع فیہ غرر۔ (الفقہ الْإسلامی وأدلّتہ ج:۴ ص:۴۷۴، بیع الشیء المملوک قبل قبضہ من مالک آخر)۔ أیضًا: ولکل منھما فسخہ یعنی علٰی کل واحد منھما فسخہ، لأنہ رفع الفساد واجب علیھما۔ (تبیین الحقائق ج:۴ ص:۴۰۲، باب البیع الفاسد)۔
- (۵) عن عمر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: الجالب مرزوق والمحتکر ملعون۔ (مشکٰوۃ ص:۲۵۱، باب الْإحتکار) وعن ابن عمر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من احتکر طعامًا أربعین یومًا یرید الغلاء فقد بریٔ من اللہ وبریٔ اللہ منہ۔ (مشکٰوۃ ص:۲۵۱)۔ وقال ابن نجیم: (واحتکار قوت الأدمین) یعنی یکرہ الْإحتکار فی بلد یضر بأھلھا لقولہ علیہ السلام الجالب مرزوق والمحتکر ملعون، ولأنہ تعلق بہ حق العامۃ وفی الْإمتناع عن البیع ابطال حقھم وتضیق الأمر علیھم فیکرہ۔ (البحر الرائق ج:۸ ص:۲۲۹ فصل فی البیع، طبع دار المعرفۃ بیروت)۔

