مالقبضےسےقبلفروختکرنا
ڈیلرکاکمپنیسےمالوصولکرنےسےقبلفروختکرنا
سوال:۔
مختلف کمپنیاں مال بناکر کچھ لوگوں کو اپنا مال فروخت کرتی ہیں، بقیہ لوگوں کو مال ان لوگوں سے خریدنا پڑتا ہے۔ بعض اوقات ان لوگوں کے پاس مال کا اسٹاک (ذخیرہ) نہیں ہوتا، اور وہ لوگ اپنا نفع بڑھاکر اپنا مال فروخت کرواتے ہیں، اور یہ فروخت شدہ مال بعد میں اسی کمپنی سے اتنا ہی خرید کر پورا کردیتے ہیں، آیا شرعاً یہ جائز ہے؟ اگر نہیں تو اس کی صحیح شرعی صورت کیا ہوسکتی ہے؟
جواب:۔
جو مال اپنے پاس موجود نہیں، اس کی فروخت بھی جائز نہیں، البتہ ایک صورت جائز ہے، جس کو ’’بیعِ سلم‘‘ کہتے ہیں،(۱) اور وہ یہ ہے کہ دام تو آج نقد وصول کرلئے اور چیز ایک مہینے یا اس سے زیادہ کی مہلت پر دینی طے کرلی،(۲) ایسا سودا چند شرائط کے ساتھ جائز ہے:
۱:۔ جنس معلوم ہو (مثلاً: کپاس کا سودا ہوا)۔
۲:۔ نوع معلوم ہو (مثلاً: دیسی وغیرہ)۔
۳:۔ صفت معلوم ہو (مثلاً: اعلیٰ قسم، یا متوسط یا ادنیٰ)۔
۴:۔ اس کی مقدار معلوم ہو (مثلاً: اتنے ٹن) ان چار شرطوں کا تعلق مال کی تعیین سے ہے کہ جس چیز کا سودا ہو رہا ہے اس میں کوئی اشتباہ نہ رہے۔
۵:۔ وصولی کی تاریخ متعین ہو، جو ایک مہینے سے کم نہیں ہونی چاہئے۔
۶:۔ ادا شدہ رقم کی مقدار متعین ہو۔
۷:۔ جن چیزوں پر حمل و نقل کے مصارف اُٹھتے ہیں، ان میں یہ بھی طے ہوجانا چاہئے کہ وہ مال فلاں جگہ مہیا کیا جائے گا۔
۸:۔ جانبین کے جدا ہونے سے پہلے مجلسِ خرید و فروخت میں پوری رقم ادا ہوجانا۔
اگر ان آٹھ شرطوں میں سے کوئی شرط نہ پائی گئی تو بیعِ سلم فاسد ہے۔(۳)
- (۱) عن ابن عباس یقول: اما الذی نھی عنہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم فھو الطعام أن یباع حتّٰی یقبض، قال ابن عباس: ولَا أحسب کل شیء إلّا مثلہ۔ وعن ابن عمر أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: من ابتاع طعامًا فلا یبیعہ حتّٰی یستوفیہ۔ وزاد إسماعیل: من ابتاع طعامًا فلا یبیعہ حتّٰی یقبضہ ۔۔۔إلخ۔ (صحیح بخاری ج:۱ ص:۲۸۶)۔ عن حکیم ابن حزام قال: یا رسول اللہ! یأتی الرجل فیرید منی البیع ما لیس عندی فابتاعہ لہ من السوق، فقال: لَا تبع ما لیس عندک۔ وعن ابن عمر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لَا یحل سلف ۔۔۔ ولَا بیع ما لیس عندک۔ (أبوداوٗد ج:۲ ص:۱۳۹)۔ وبطل بیع قن ضم إلٰی حر ۔۔۔ وبیع ما لیس فی ملکہ لبطلان بیع المعدوم وما لہ خطر العدم لَا بطریق السلم فإنہ صحیح لأنہ علیہ الصلاۃ والسلام نھٰی عن بیع ما لیس عند إنسان، ورخص فی السلم۔ وفی الشامیۃ (قولہ لبطلان بیع المعدوم) إذ من شرط المعقود علیہ، أن یکون موجودًا مالًا متقومًا مملوکًا فی نفسہ ۔۔۔ وأن یکون ملک البائع فیما یبیعہ لنفسہ وأن یکون مقدور التسلیم منح۔ (درمختار مع رد المحتار ج:۵ ص:۵۶، ۵۹)۔ ومن اشتریٰ شیئًا مما ینقل ویحول لم یجز بیعہ حتّٰی یقبضہ ۔۔۔إلخ۔ (الجوھرۃ النیرۃ ص:۲۱۲ باب المرابحۃ)۔
- (۲) باب السلم ھو لغۃ کالسلف وزنا ومغنًی وشرعًا بیع أجل وھو المسلم فیہ بعاجل وھو رأس المال۔ (درمختار ج:۵ ص:۲۰۹، کتاب البیوع، باب السلم، طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔
- (۳) ولَا یصح السلم عند أبی حنیفۃ إلّا بسبع شرائط: جنس معلوم کقولنا حنطۃ أو شعیرۃ، ونوع معلوم کقولنا سقیۃ أو نخیسۃ، وصفۃ معلومۃ کقولنا جید وردی، ومقدار معلوم کقولنا کذا کیلًا بمکیال معروف أو کذا وزنا، وأجل معلوم، والأصل فیہ ما روینا والفقہ فیہ ما روینا، ومقدار رأس المال إذا کان یتعلق العقد علٰی مقدارہ کالمکیل والموزون والمعدود، وتسمیۃ المکان الذی یوفیہ فیہ إذا کان لہ حمل ومؤنۃ، ولَا یصح السلم حتّٰی یقبض رأس المال قبل أن یفارقہ فیہ۔ (ھدایۃ ج:۳ ص:۹۵، کتاب البیوع، باب السلم، عالمگیری ج:۳ ص:۱۷۸، درمختار ج:۵ ص:۲۱۴)۔ وقال فی النتف وشرائط السلم ثمانیۃ أشیاء فی قول أبی حنیفۃ أولھا أن یعین الجنس ۔۔۔إلخ۔ (النتف فی الفتاویٰ ص:۲۸۷)۔

