نقداوراُدھارکافرق
بھینسنقدپانچہزارکیاوراُدھارچھہزارکیفروختکرنا
سوال:۔
کیا زید نقد ایک بھینس پانچ ہزار کی، اور وہی بھینس اُدھار چھ ہزار کی فروخت کرسکتا ہے؟ کیا اُدھار میں ایک ہزار سود تو نہیں بن جائے گا؟
جواب:۔
اُدھار میں زیادہ رقم لینا جائز ہے، یہ سود نہیں۔(۱) واللہ اعلم!
حوالوں کی تفصیل کے لئے دیکھئے گزشتہ حاشیہ :
ألَا تریٰ أنہ یزاد فی الثمن لأجل الأجل ۔۔۔إلخ۔ (ھدایۃ ج:۳ ص:۷۴، وأیضًا بحر ج:۶ ص:۱۶۵، شامی ج:۶ ص:۷۵۷ فی مسائل شتّٰی)...الخ
- (۱) لأن للأجل شبھتا بالمبیع ألَا تریٰ أنہ یزاد فی الثمن لأجل الأجل ۔۔۔إلخ۔ (ھدایۃ ج:۳ ص:۷۴، أیضًا: البحر ج:۶ ص:۱۶۵، شامی ج:۶ ص:۷۵۶، مبسوط سرخسی ج:۱۳ ص:۹)۔

