بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نقد‌اور‌اُدھار‌کا‌فرق

مل‌سے‌دھاگہ‌نقد‌لے‌کر‌گاہکوں‌کو‌اُدھار‌دینا

سوال:۔

ہمارا دھاگے کا کاروبار ہے، ہم گاہکوں کو مل سے دھاگا نقد یا اُدھار دِلادیتے ہیں، اور ہمیں اس پر کمیشن ملتا ہے۔ دھاگے کا دَام فی پونڈ (وزن کے لحاظ سے) ہوتا ہے، مثلاً نقد ۵۰روپے فی پونڈ، اور اُدھار ایک ماہ کا ۵۱ روپے، دو ماہ کا ۵۲روپے فی پونڈ وغیرہ۔ مقرّرہ اُدھار سے تأخیر ادائیگی پر کوئی اِضافی رقم نہیں لی جاتی۔

بعض اوقات یہ ہوتا ہے کہ ہم خود نقد دھاگا خرید کر مہنگے دام پر گاہکوں کو اُدھار مال دیتے ہیں، اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ ہم نقد رقم ادا کرکے مل یا اس کے مقرّرہ ریٹ سے مال کا ’’ڈلیوری آرڈر‘‘ اپنے نام سے لیتے ہیں، اور وہی ڈلیوری آرڈر ہمارے گاہک کو دے دیتے ہیں، جس پر اُدھار مال بیچا ہوتا ہے، جو مل کے گودام سے مال اُٹھالیتے ہیں۔ اس سلسلے میں معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا اس طرح نقد مال اپنے نام لے کر اس کا ڈلیوری آرڈر گاہک کو دینا جس کو اُدھار بیچا ہے کہ وہ خود مال اُٹھالیں شرعی طور پر جائز ہے؟

بعض اوقات ڈلیوری آرڈر گاہک اس لئے مانگتا ہے کہ اس کو اِطمینان ہوجائے کہ جس مل کا مال اسے چاہئے تھا وہی اصلی مال اُسے خود مل کے گودام سے مل گیا، ورنہ بعض گاہکوں کو شبہ یہ ہوتا ہے کہ مال تبدیل شدہ نہ ملے، اس لئے کہ دھاگے پر تو کچھ لکھا ہوتا نہیں ہے، صرف پوروں پر بنانے والی مل کا نام لکھا جاتا ہے، جو تبدیل کئے جاسکتے ہیں۔

ڈلیوری آرڈر گاہک کو اس لئے بھی دے دیتے ہیں کہ وہ مال کا رِسک بھی ان کا ہی رہے، اگر مندرجہ بالا طریقۂ کار شرعاً مناسب نہیں ہے تو اُوپر بیان کردہ حالات میں شرعی طریقۂ کار کیا ہونا چاہئے؟

جواب:۔

جو مال آپ دھاگے کے خریداروں کو مل سے دِلواتے ہیں، ظاہر ہے کہ اس کی نقد قیمت اور اُدھار کی قیمت میں فرق ہوتا ہوگا، بہرحال ایک بات طے کرلیں کہ اتنے مہینے میں رقم ادا کی جائے گی، اور یہ اس کی قیمت ہوگی۔(۱) فرض کیجئے! گاہک اتنے دن تک بل ادا نہیں کرتا تو اب قیمت بڑھانے کا آپ کو اِختیار نہیں ہوگا، اور نہ مل والوں کو، بلکہ اگر مہلت کے بدلے میں قیمت بڑھائی گئی تو یہ سود ہوگا۔(۲)

آپ اپنے طور پر مل والوں سے دھاگا خرید کر خریداروں کو دے سکتے ہیں، اور اس کا پرچہ وغیرہ جو بناتے ہیں وہ بھی بناسکتے ہیں، لیکن اس میں یہ شرط ملحوظ رکھی جائے گی کہ ایک دفعہ جو قیمت طے ہوگئی اس میں اِضافہ نہیں کیا جاسکتا۔

  1. (۱) ألَا تریٰ أنہ یزاد فی الثمن لأجل الأجل ۔۔۔إلخ۔ (ھدایۃ ج:۳ ص:۷۴، وأیضًا بحر ج:۶ ص:۱۶۵، شامی ج:۶ ص:۷۵۷ فی مسائل شتّٰی)۔ عن أبی ھریرۃ قال: نھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن بیعتین فی بیعۃ۔ ثم قال: والعمل علٰی ھٰذا عند أھل العلم وقد فسر بعض أھل العلم قالوا: بیعتین فی بیعۃ أن یقول أبیعک ھٰذا الثوب بنقد بعشرۃ وبنسئۃ بعشرین ولَا یفارقہ علٰی أحد البیعین، فإذا فارقہ علٰی أحدھما فلا بأس بہ إذا کانت العقدۃ علٰی واحد منھما۔ (ترمذی ج:۱ ص:۲۳۳، باب النھی عن بیعتین)۔ أیضًا: وإذا عقد العقد علٰی أنہ إلٰی أجل کذا بکذا وبالنقد بکذا، أو قال: إلٰی شھر بکذا، أو إلٰی شھرین بکذا فھو فاسد لأنہ لم یعاطہ علٰی ثمن معلوم، ولنھی النبی صلی اللہ علیہ وسلم من شرطین فی بیع ۔۔۔ وھٰذا إذا إفترقا علٰی ھٰذا، فإن کان یتراضیان بینھما ولم یتفرقا حتّٰی قاطعہ علٰی ثمن معلوم، وأتمّا العقد علیہ فھو جائز۔ (المبسوط لسرخسی ج:۱۳ ص:۹، باب البیوع الفاسد، طبع کوئٹہ)۔ لأن للأجل شبھا بالمبیع ألَا تریٰ أنہ یزاد فی الثمن لأجل الأجل، والشبھۃ فی ھٰذا ملحقۃ بالحقیقۃ۔ (الھدایۃ ج:۳ ص:۷۶، باب المرابحۃ والتولیۃ، طبع شرکت علمیہ ملتان)۔
  2. (۲) الربا ھو فضل خال عن عوض بمعیار شرعی مشروط لأحد المتعاقدین ۔۔۔إلخ۔ (تنویر الأبصار ج:۵ ص:۱۶۸)۔