بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نقد‌اور‌اُدھار‌کا‌فرق

اُدھار‌فروخت‌کرنے‌پر‌زیادہ‌قیمت‌وصولنا

سوال:۔

کسی اناج کے بھاؤ بازار کے مطابق آج ۲۰ روپے من ہیں، اور دُکان دار نقد لینے والے گاہک کو ۲۰ روپے من فروخت کرتا ہے، اور وہی دُکان دار اُدھار لینے والے کو ۲۵ روپے من فروخت کرتا ہے، اُدھار لینے والا مجبوری کی وجہ سے ایسا کرنے پر مجبور ہے اور لیتا ہے، اس مسئلے پر اسلامی قانون سے کیا حکم ہے؟ ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب:۔

اس طرح فروخت کرنا تو جائز ہے،(۱) مگر کسی کی مجبوری سے فائدہ نہیں اُٹھانا چاہئے۔(۲)

  1. (۱) ایضاً حوالۂ بالا۔
  2. (۲) عن علی قال: سیأتی علی الناس زمان عضوض یعنی الموسر علٰی ما فی یدہ ولم یؤمر بذٰلک، قال اللہ تعالٰی: ولَا تنسوُا الفضل بینکم، ویباع المضطرون وقد نھی النبی صلی اللہ علیہ وسلم عن بیع المضطر۔ قال الشامی: وھو أن یضطر الرجل إلٰی طعام وشراب أو غیرھما، ولَا یبعہ البائع إلّا بأکثر من ثمنھا بکثیر وکذٰلک الشراء منہ ۔۔۔ قال الخطابی: إن عقد البیع مع الضرورۃ علٰی ھٰذا الوجہ جائز فی الحکم ولَا یفسخ إلّا ان سبیلہ فی حق الدین والمروئۃ أن لَا یباع علٰی ھٰذا الوجہ وأن لَا یقنات علیہ بمالہ، ولٰـکن یعاون ویقرض ویستمھل لہ إلی المیسرۃ حتّٰی یکون لہ فی ذٰلک بلاغ۔ (إعلاء السُّنن ج:۱۴ ص:۲۰۵، کتاب البیوع، باب النھی عن بیع المضطر، أیضًا: بذل المجھود ج:۵ ص:۲۵۲ کتاب البیوع، باب فی بیع المضطر، طبع إمدادیۃ)۔