بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نقد‌اور‌اُدھار‌کا‌فرق

اُدھار‌چیز‌کی‌قیمت‌وقفہ‌وقفہ‌پر‌بڑھانا‌جائز‌نہیں

سوال:۔

ہمارے ہاں کپڑا مارکیٹ میں دھاگے کا کام ہوتا ہے، اب ہم اس طرح کرتے ہیں کہ دھاگہ جو کہ پونڈ کے حساب سے فروخت ہوتا ہے، اب فرض کریں کہ دھاگے کی قیمت ۳۵ روپے فی پونڈ ہے، ہمارے یہاں مارکیٹ کا طریقہ یہ ہے کہ اگر دھاگہ نقد لوگے تو ۳۵ روپے فی پونڈ ہوگا، اور اگر یہی دھاگہ ایک مہینے کا اُدھار لیں گے تو یہ دھاگہ ۳۶ روپے کا ہوگا، اور دو مہینے کا اُدھار لیں گے تو یہ دھاگہ ۳۷ روپے کا ہوگا۔ گویا ایک پونڈ پر ایک مہینے کا ایک روپیہ اُوپر لیتے ہیں، اب اگر کوئی شخص دھاگہ دو مہینے اُدھار پر لیتا ہے اور دو روپے پونڈ کے اُوپر زیادہ دیتا ہے تو اگر اس شخص کے پاس ڈیڑھ مہینے میں روپے آجاتے ہیں اور وہ اسے جس سے اس نے دھاگہ دو مہینے اُدھار پر لیا ہے، یہ کہے کہ: ’’میرے پاس روپے آگئے ہیں، تم اس طرح کہ ڈیڑھ روپے کے حساب سے پونڈ پر روپے لے لو، یعنی اگر ۳۵ روپے کا ہے تو ۳۶ روپے ۵۰ پیسے پونڈ کے حساب سے روپے لے لو‘‘ تو کیا یہ طریقہ صحیح ہے یا نہیں؟ جبکہ دو روپے پونڈ کا دو مہینے سے سودا طے ہوا تھا، اب وہ ۱۵ دن پہلے روپے دے رہا ہے، ۵۰ پیسے فی پونڈ پر کم کے حساب سے۔ دُوسری صورت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ایک مہینے کا اُدھار لے ایک روپیہ فی پونڈ کے حساب سے، اب ایک مہینہ ہوگیا ہے اور اب اس شخص کے پاس روپے نہیں آئے اب وہ اگر یہ کہے کہ: ’’تم اس طرح کرو کہ دو مہینے کا اُدھار کرلو اور ایک روپیہ پونڈ پر زیادہ لے لو، تو یہ طریقہ سود کے زُمرے میں تو نہیں آتا ہے؟ اور یہ طریقہ جائز ہے یا ناجائز ہے؟ برائے مہربانی دونوں صورتوں کا جواب شریعت کی رُو سے دیں۔

جواب:۔

نقد اور اُدھار قیمت کا فرق تو جائز ہے،(۱) مگر وقت متعین ہونا چاہئے، مثلاً: دو مہینے کے بعد ادا کریں گے، اور اس کی قیمت یہ ہوگی۔ فی مہینہ ایک روپیہ زائد کے ساتھ سودا کرنا جائز نہیں۔(۲)

  1. (۱) والأثمان المطلقۃ لَا تصح إلّا أن تکون معروفۃ القدر والصفۃ ۔۔۔ ویجوز البیع بثمن حال ومؤجل إذا کان الأجل معلومًا ۔۔۔إلخ۔ (ھدایۃ، کتاب البیوع، ج:۳ ص:۲۶)۔ أیضًا: لأن للأجل شبھًا بالمبیع ألَا تریٰ أنہ یزاد فی الثمن لأجل الأجل والشبھۃ ھٰذا ملحقۃ بالحقیقۃ۔ (ھدایۃ ج:۳ ص:۷۶ باب المرابحۃ والتولیۃ)۔
  2. (۲) وإذا عقد العقد علٰی أنہ إلٰی أجل کذا بکذا وبالنقد بکذا أو إلٰی شھر بکذا أو إلٰی شھرین بکذا فھو فاسد لأنہ لم یعاطہ علٰی ثمن معلوم ۔۔۔ وھٰذا إذا افترقا علٰی ھٰذا فإن کان یتراضیان بینھما ولم یتفرقا حتّٰی قاطعہ علٰی ثمن معلوم وأتمّا العقد علیہ فھو جائز۔ (المبسوط للسرخسی ج:۱۳ ص:۹، باب البیوع الفاسد، أیضًا: عالمگیری ج:۳ ص:۱۵۴، خلاصۃ الفتاویٰ ج:۳ ص:۶۰ کتاب البیوع، الفصل الخامس فی البیع جنس آخر)۔