بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نقد‌اور‌اُدھار‌کا‌فرق

اُدھار‌بیچنے‌پر‌زیادہ‌رقم‌لینے‌اور‌سود‌لینے‌میں‌فرق

سوال:۔

آپ نے ایک سائل کے جواب میں لکھا تھا کہ ایک چیز نقد ۱۰ روپے کی اور اُدھار ۱۵ روپے کی بیچنا جائز ہے، یہ کیسے جائز ہوگیا؟ یہ تو سراسر سود ہے، سود میں بھی تو اسی طرح ہوتا ہے کہ آپ کسی سے ۱۰ روپے لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایک مہینے کے بعد ۱۵ روپے دُوں گا۔ اس طرح تو یہ بھی سود ہوا کہ ایک چیز کو نقد ۱۰ روپے کا، اُدھار ۱۵ روپے کا دیتے ہیں، اگر وقت کی وجہ سے دُکان دار ۵ روپے زیادہ لیتا ہے تو سودخوروں کی بھی یہی دلیل ہے کہ ہم اپنا پیسہ پھنساتے ہیں۔

جواب:۔

کسی کی ضرورت سے ناجائز فائدہ اُٹھانا الگ چیز ہے، اور سود الگ چیز ہے۔ روپے کے بدلے روپیہ جب زیادہ لیا جائے گا تو یہ ’’سود‘‘ ہوگا۔(۱) لیکن چیز کے بدلے میں روپیہ زیادہ بھی لیا جاتا ہے اور کم بھی۔ زیادہ لینے کو ’’گراں فروشی‘‘ تو کہتے ہیں مگر یہ سود نہیں۔(۲) اسی طرح اگر نقد اور اُدھار کی قیمت کا فرق ہو تو یہ بھی سود نہیں۔(۳)

  1. (۱) باب الربا ھو فضل خالٍ عن عوض بمعیار شرعی مشروط لأحد المتعاقدین فی المعاوضۃ۔ (تنویر الأبصار ج:۵ ص:۱۶۸)۔ أیضًا: قال الربا محرم فی مکیل أو موزون إذا بیع بجنسہ متفاضلًا فالعلۃ عندنا الکیل مع الجنس أو الوزن مع ۔۔۔ والأصل فیہ الحدیث المشھور وھو قولہ علیہ السلام: الحنطۃ بالحنطۃ مثلًا بمثل یدًا بید والفضل ربا۔ وعدّ الأشیاء السِّتَّۃ: الحنطۃ والشعیر والتمر والملح والذھب والفضۃ علٰی ھٰذا المثال۔ (ھدایۃ ج:۳ ص:۷۹، باب الربا)۔
  2. (۲) وطلب الزیادۃ بطریق التجارۃ غیر محرم فی الجملۃ قَالَ تَعَالَى ﵟ لَيۡسَ عَلَيۡكُمۡ جُنَاحٌ أَن تَبۡتَغُواْ فَضۡلٗا مِّن رَّبِّكُمۡۚ ﵞ البقرة ١٩٨(تفسیر مظھری ج:۱ ص:۳۹۹، طبع مکتبۃ إشاعت العلوم، دھلی)۔
  3. (۳) عن أبی ھریرۃ قال: نھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن بیعتین فی بیعۃ۔ ثم قال: والعمل علٰی ھٰذا عند أھل العلم وقد فسر بعض أھل العلم قالوا: بیعتین فی بیعۃ أن یقول أبیعک ھٰذا الثوب بنقد بعشرۃ وبنسیئۃ بعشرین ولَا یفارقہ علٰی أحد البیعین، فإذا فارقہ علٰی أحدھما فلا بأس بہ إذا کانت العقدۃ علٰی واحد منھما۔ (ترمذی ج:۱ ص:۲۳۳، باب النھی عن بیعتین)۔ أیضًا: وإذا عقد العقد علٰی أنہ إلٰی أجل کذا بکذا وبالنقد بکذا، أو قال: إلٰی شھر بکذا، أو إلٰی شھرین بکذا فھو فاسد لأنہ لم یعاطہ علٰی ثمن معلوم، ولنھی النبی صلی اللہ علیہ وسلم من شرطین فی بیع ۔۔۔ وھٰذا إذا إفترقا علٰی ھٰذا، فإن کان یتراضیان بینھما ولم یتفرقا حتّٰی قاطعہ علٰی ثمن معلوم، وأتمّا العقد علیہ فھو جائز۔ (المبسوط لسرخسی ج:۱۳ ص:۹، باب البیوع الفاسد، طبع کوئٹہ)۔ لأن للأجل شبھا بالمبیع ألَا تریٰ أنہ یزاد فی الثمن لأجل الأجل، والشبھۃ فی ھٰذا ملحقۃ بالحقیقۃ۔ (الھدایۃ ج:۳ ص:۷۶، باب المرابحۃ والتولیۃ، طبع شرکت علمیہ ملتان)۔