نقداوراُدھارکافرق
ایکچیزنقدکمپر،اوراُدھارزیادہپربیچنا
سوال:۔
ماہنامہ ’’اقرأ‘‘ ڈائجسٹ میں ایک مسئلہ لکھا ہوا ہے کہ ایک شخص ریڈیو فروخت کرتا ہے، اور کہتا ہے کہ: ’’یہ ریڈیو اگر نقد لیتے ہو تو ۵۰۰ روپے کا، اور اگر اُدھار لیتے ہو تو ۶۰۰روپے کا، اگرچہ یہاں پر ۱۰۰ روپیہ بڑھ گئے لیکن یہ سود نہیں ہے، اس لئے کہ اس پس منظر میں چیز ہے۔‘‘ مندرجہ بالا مسئلے سے معلوم ہوا کہ بائع مشتری کے ساتھ نقد اور اُدھار کی شرط پر قیمت میں کمی بیشی کرسکتا ہے۔ جہاں تک ہمیں معلوم ہے اور اب تک جو کچھ ہم سمجھتے رہے ہیں وہ یہ ہے کہ یہ بیع جائز نہیں ہے، اور ’’بہشتی زیور‘‘ سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ مسئلہ ’’بہشتی زیور‘‘ کا یہ ہے کہ یہ حکم اس وقت ہے جبکہ خریدار سے اوّل پوچھ لیا ہو کہ نقد لوگے یا اُدھار، اگر اس نے نقد کہا تو بیس سیر دے دئیے، اور اُدھار کہا تو پندرہ سیر دے دئیے، اور اگر معاملہ اس طرح کیا کہ خریدار سے یوں کہا کہ اگر نقد لوگے تو ایک روپے کے بیس سیر، اور اُدھار لوگے تو پندرہ سیر ہوں گے، یہ جائز نہیں ہے۔
جواب:۔
’’بہشتی زیور‘‘ کا مسئلہ صحیح ہے، مگر یہ اس صورت میں ہے کہ مجلسِ عقد میں یہ طے نہ ہوجائے کہ یہ چیز نقد لوگے تو اتنے کی ہے اور اُدھار لوگے تو اتنے کی،(۱) اور پھر مجلسِ عقد میں ایک صورت طے ہوجائے تو جائز ہے۔(۲) مفتی صاحب نے جو مسئلہ لکھا ہے وہ اسی صورت سے متعلق ہے۔
- (۱) رجل باع علٰی أنہ بالنقد بکذا وبالنسیئۃ بکذا أو إلٰی شھر بکذا وإلٰی شھرین بکذا، لم یجز۔ (خلاصۃ الفتاویٰ ج:۳ ص:۶۰ کتاب البیوع، الفصل الخامس فی البیع جنس آخر، طبع رشدیہ، أیضًا: فتاویٰ ھندیۃ ج:۳ ص:۱۵۴)۔
- (۲) عن أبی ھریرۃ قال: نھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن بیعتین فی بیعۃ۔ ثم قال: والعمل علٰی ھٰذا عند أھل العلم وقد فسر بعض أھل العلم قالوا: بیعتین فی بیعۃ أن یقول أبیعک ھٰذا الثوب بنقد بعشرۃ وبنسئۃ بعشرین ولَا یفارقہ علٰی أحد البیعین، فإذا فارقہ علٰی أحدھما فلا بأس بہ إذا کانت العقدۃ علٰی واحد منھما۔ (ھٰکذا فی الترمذی ج:۱ ص:۲۳۳، باب النھی عن بیعتین، والمغنی لِابن قدامۃ ج:۴ ص:۱۷۷، والمبسوط للسرخسی ج:۱۳ ص:۸)۔

