بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نقد‌اور‌اُدھار‌کا‌فرق

نقد‌ایک‌چیز‌کم‌قیمت‌پر‌اور‌اُدھار‌زیادہ‌پر‌بیچنا‌جائز‌ہے

سوال:۔

ہمارے یہاں لوگ قسطوں کا کاروبار کرتے ہیں، جیسے سائیکل، ٹی وی، فریج، ٹیپ ریکارڈر وغیرہ، قسطوں پر دیتے ہیں، ایسے کہ اگر ٹیپ ریکارڈر کی مارکیٹ میں مالیت دو ہزار کی ہے تو یہ قسطوں پر ڈھائی ہزار کی دیں گے۔ سیدھی بات یہ ہے کہ وہ ہم کو دو ہزار دیں گے اور ہم سے ڈھائی ہزار لیں گے، جبکہ آپ نے قسطوں پر لی ہے۔ برائے مہربانی ہم کو بتائیں کہ یہ چیز سود کے زُمرے میں تو نہیں آتی؟ اگر آتی ہے تو آپ بتائیں کہ اس کو رفع کیسے کیا جائے؟

جواب:۔

ایک چیز نقد کم قیمت پر فروخت کرنا اور اُدھار زیادہ قیمت پر دینا جائز ہے، یہ چیز سود کے زُمرے میں نہیں آتی۔ البتہ فروخت کرتے وقت نقد یا اُدھار پر فروخت کرنے اور قیمت اور قسطوں کی تعیین ضروری ہے۔(۱)

  1. (۱) والأثمان المطلقۃ لَا تصح إلّا أن تکون معروفۃ القدر والصفۃ ۔۔۔ ویجوز البیع بثمن حال ومؤجل إذا کان الأجل معلومًا ۔۔۔ لأن الجھالۃ فیہ مانعۃ عن التسلیم الواجب بالعقد۔ (ھدایۃ، کتاب البیوع ج:۳ ص:۲۶، طبع ملتان)۔ أیضًا: وإذا عقد العقد علٰی أنہ إلٰی أجل کذا بکذا وبالنقد بکذا أو إلٰی شھرین بکذا فھو فاسد لأنہ لم یعاطہ بثمن معلوم ۔۔۔ فإن کان یتراضیان بینھما ولم یتفرقا حتّٰی قاطعہ علٰی ثمن معلوم وأتما العقد علیہ فھو جائز۔ (المبسوط للسرخسی ج:۱۳ ص:۹، باب البیوع الفاسد، طبع دار الفکر، بیروت)۔ أیضًا: البیع مع تأجیل الثمن وتقسیطہ صحیح یلزمہ أن تکون المدۃ معلومۃ فی البیع بالتأجیل والتقسیط۔ (شرح المجلۃ ص:۱۲۵، رقم المادّۃ:۲۴۵، ۲۴۶، طبع حبیبیہ کوئٹہ)۔