بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نقد‌اور‌اُدھار‌کا‌فرق

نقد‌اَرزاں‌خرید‌کر‌گراں‌قیمت‌پر‌اُدھار‌فروخت‌کرنا

سوال:۔

زید کے پاس مال ہے، بکر اس کا خریدار ہے، زید کو پیسے کی ضرورت ہے، عمرو کے پاس رقم نہیں ہے، بکر کے پاس فالتو رقم پڑی ہوئی ہے۔ بکر، زید سے مال بازار کے نرخ سے کم پر خریدتا ہے اور زید کو چونکہ ضرورت ہے اس لئے وہ بھی دے دیتا ہے، اس کے بعد بکر، عمرو کے ہاتھ وہ مال بازار کے نرخ سے زائد پر بیچتا ہے، کیونکہ عمرو یہ مال اُدھار پر خریدتا ہے، بکر کا یہ معاملہ کیا شرعی حیثیت رکھتا ہے؟ اس میں یہ بات واضح رہے کہ بکر، زید سے یہ مال صرف اس لئے خرید رہا ہے کہ اس کے پاس اس مال کا گاہک عمرو پہلے سے موجود ہے، اگر عمرو موجود نہ ہو تو بکر سے زید یہ معاملہ نہ کرتا، کیونکہ جس مال کا سودا ہوا ہے وہ بکر کی لائن ہی نہیں ہے۔

جواب:۔

یہاں دو مسئلے ہیں۔ ایک کسی کی ناداری اور مجبوری سے فائدہ اُٹھاکر کم داموں پر چیز خریدنا اگرچہ قانوناً جائز ہے، مگر اخلاق و مروّت کے خلاف ہونے کی وجہ سے مکروہ ہے۔(۱) دُوسرا مسئلہ اُدھار میں گراں قیمت پر دینا ہے، یہ جائز ہے، مگر نقد اور اُدھار کے درمیان قیمت کا فرق مناسب ہونا چاہئے۔(۲)

  1. (۱) قال الخطابی: بیع المضطر یکون من وجھین ۔۔۔ والوجہ الآخر أن یضطر إلی البیع لدین یرکبہ أو مونۃ ترھقہ فیبیع ما فی یدہ بالوکس من أجل الضرورۃ فھٰذا سبیلہ فی حق الدین والمروئۃ أن لَا یباع علٰی ھٰذا الوجہ، وأن لَا یقتات علیہ بمالہ ولٰکن یعان ویقرض ویستھمل لہ إلی المیسرۃ حتّٰی یکون فی ذٰلک بلاغ فإن عقد البیع مع الضرورۃ علٰی ھٰذا الوجہ جاز فی الحکم ولَا تفسح ۔۔۔ إلّا أن عامۃ أھل العلم قد کرھوا ھٰذا البیع لھٰذا الوجہ ۔۔۔إلخ۔ (بذل المجھود شرح سنن أبو داوٗد ج:۴ ص:۲۵۲، کتاب البیوع، باب فی بیع المضطر، طبع مکتبہ یحیویہ، ھند)۔ أیضًا: (قولہ بیع المضطر وشرائہ فاسد) ھو أن یضطر الرجل إلٰی طعام أو شراب أو لباس أو غیرھا ولَا یبیعھا البائع إلّا بأکثر من ثمنھا بکثیر، وکذٰلک فی الشراء منہ کذا فی المنح ۔۔۔إلخ۔ (فتاویٰ شامی ج:۵ ص:۵۹، باب البیع الفاسد)۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: إعلاء السُّنن ج:۱۴ ص:۲۰۵ کتاب البیوع، باب النھی عن بیع المضطر، طبع إدارۃ القرآن)۔
  2. (۲) عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: نھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن بیعتین فی بیعۃ۔ قال الْإمام الترمذی: وقد فسر بعض أھل العلم: قالوا بیعتین فی بیعۃ أن یقول: أبیعک ھٰذا الثوب بنقد بعشر وبنسیئۃ بعشرین، ولَا یفارقہ علٰی أحد البیعین، فإذا فارقہ علٰی أحدھما، فلا بأس إذا کانت العقدۃ علٰی واحد منھما۔ (جامع الترمذی ج:۱ ص:۲۳۳ باب النھی عن بیعتین)۔ وفی الھدایۃ: لأن للأجل شبھًا بالمبیع، ألَا تریٰ أنہ یزاد فی الثمن لِأجل الأجل، والشبھۃ فی ھٰذا ملحقۃ بالحقیقۃ۔ (ھدایۃ ج:۳ ص:۷۶، کتاب البیوع، باب المرابحۃ والتولیۃ)۔ أیضًا: لأن الأجل فی نفسہ لیس بمال، فلا یقابلہ شیء حقیقۃ إذا لم یشترط زیادۃ الثمن بمقابلتہ قصدًا، ویزاد فی الثمن لأجلہ، إذا ذکر الأجل بمقابلۃ الأجل قصدًا۔ (الدر المختار مع رد المحتار ج:۵ ص:۱۴۲ کتاب البیوع، باب المرابحۃ والتولیۃ، أیضًا فی المبسوط ج:۱۳ ص:۹ باب البیوع الفاسدۃ)۔