بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

غصب‌کی‌ہوئی‌چیز‌کا‌لین‌دین

کسی‌کی‌زمین‌ناحق‌غصب‌کرنا‌سنگین‌جرم‌ہے

سوال:۔

ایک شخص کے منظورشدہ نقشے میں زمین آگے کی جانب ساڑھے تیس فٹ چوڑی اور پشت کی جانب ساڑھے اُنتیس فٹ چوڑی، اور اس کے پڑوسی کے نقشے میں آگے کی جانب دس فٹ گیارہ اِنچ اور پشت کی جانب تیرہ فٹ ہے، لیکن وہ پڑوسی جس کے نقشے میں پشت کی جانب ساڑھے اُنتیس فٹ چوڑائی ہے اپنے پڑوسی سے یہ کہہ کر اس کی دیوار گرادے کہ: ’’تمہارے مکان کی دیوار بوسیدہ ہے جس کی وجہ سے میرے مکان کی تعمیر میں مزدوروں پر گر جائے گی‘‘ لیکن جب تعمیر کے لئے بنیاد کھودے تو اپنی ساڑھے اُنتیس فٹ چوڑائی سے بڑھ کر تیس فٹ یا اس سے بھی زیادہ حد میں تعمیر کرلے، اور اپنے اس پڑوسی کی زمین کم کردے جس کی منظور شدہ نقشے میں تیرہ فٹ چوڑائی ہے، تو جناب مولانا صاحب! آپ بتائیں کہ کسی کی زمین دبانا اس کے لئے حلال ہے یا حرام؟ اور دُنیا اور آخرت میں ایسے آدمی کو کن کن عذاب سے گزرنا ہوگا؟ اس سلسلے میں کم از کم دو چار حدیثیں بمع حوالے کے جلد تحریر فرماکر شکریہ کا موقع دیجئے گا۔ پڑوسی بیمار رہنے کے علاوہ مالی حالت میں بھی کمزور ہے، اور رشوت کے زمانے میں انصاف کا ملنا مشکل، اس لئے اس نے خاموش ہوکر خدا پر چھوڑ دیا۔

جواب:۔

کسی کی زمین ظلماً غصب کرنا بڑا ہی سنگین جرم ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ: ’’جس شخص نے ایک بالشت زمین بھی ناحق لی، اسے قیامت کے دن ساتویں زمین تک زمین میں دھنسایا جائے گا۔‘‘(۱) ایک اور حدیث میں ہے کہ: ’’جس نے ایک بالشت زمین بھی ظلماً لی، قیامت کے دن سات زمینوں تک اس کا طوق اسے پہنایا جائے گا۔‘‘(۲) (مسندِ احمد ج:۱ ص:۱۸۸) بیمار پڑوسی نے بہت اچھا کیا کہ اپنا معاملہ خدا پر چھوڑ دیا، یہ ظالم اپنے ظلم کی سزا دُنیا اور آخرت میں بھگتے گا۔(۳)

  1. (۱) عن سالم عن أبیہ قال: قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: من اخذ من الأرض شیئًا بغیر حقہ خسف بہ یوم القیامۃ إلٰی سبع أرضین۔ (صحیح البخاری ج:۱ ص:۳۳۲، باب إثم من ظلم شیئًا من الأرض)۔
  2. (۲) عن محمد بن إبراھیم ان أبا سلمۃ حدثہ أنہ کانت بینہ وبین الناس خصومہ فذکر لعائشۃ فقالت: یا أبا سلمۃ! اجتنب الأرض فإن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: من ظلم قید شبر من الأرض طوقہ من سبع أرضین ۔۔۔إلخ۔ (صحیح البخاری ج:۱ ص:۳۳۲، باب إثم من ظلم شیئًا من الأرض)۔
  3. (۳) عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من کانت مظلمۃ لأخیہ من عرضہ أو شیء فلیتحلّلہ منہ الیوم، قبل أن لَا یکون دینارًا ولَا درھم، إن کان لہ عمل صالح اُخذ منہ بقدر مظلمتہ، وإن لم یکن لہ حسنات اُخذ من سیئات صاحبہ فحمل علیہ۔ (صحیح البخاری ج:۱ ص:۳۳۱، باب من کانت لہ مظلمۃ عند الرجل، مشکوٰۃ ص:۴۳۵، باب الظلم)۔ وعن أبی ھریرۃ قال: ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: أتدرون ما المفلس؟ قالوا: المفلس منّا من لَا درھم لہ ولَا متاع، فقال: ان المفلس من اُمّتی من یأتی یوم القیامۃ بصلٰوۃ وصیام وزکٰوۃ، ویأتی قد شتم ھٰذا، وقذف ھٰذا، وأکل مال ھٰذا، وسفک دم ھٰذا، وضرب ھٰذا، فیعطی من حسناتہ وھٰذا من حسناتہ، فإن فنیت حسناتہ قبل أن یقضی ما علیہ، اُخذ من خطایاھم فطرحت علیہ ثم طرح فی النار ۔۔۔إلخ۔ (مسلم ج:۲ ص:۳۲۰، مشکوٰۃ ص:۴۳۵، باب الظلم، طبع قدیمی)۔