غصبکیہوئیچیزکالیندین
غاصبکےنمازروزےکیشرعاًکیاحیثیتہے؟
سوال:۔
اگر کوئی کسی کا مال یا جائیداد ناجائز طور پر غصب کرتا ہے تو غاصب کی نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج اور دُوسری عبادات اور نیکیوں کی شریعت میں کیا حیثیت ہے؟ جبکہ جس کا حق غصب کیا گیا ہو وہ انتقال کرچکا ہو، لیکن اس کی اولاد موجود ہے تو اس صورت میں غاصب کے لئے کیا حکم ہے؟
جواب:۔
اگر وہ غصب شدہ چیز مالک کو واپس نہ کرے تو اس غصب کے بدلے میں اس کی نماز، روزہ وغیرہ مظلوم کو دِلائی جائیں گی۔(۱)
- (۱) عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من کانت مظلمۃ لأخیہ من عرضہ أو شیء فلیتحلّلہ منہ الیوم، قبل أن لَا یکون دینارًا ولَا درھم، إن کان لہ عمل صالح اُخذ منہ بقدر مظلمتہ، وإن لم یکن لہ حسنات اُخذ من سیئات صاحبہ فحمل علیہ۔ (صحیح البخاری ج:۱ ص:۳۳۱، باب من کانت لہ مظلمۃ عند الرجل، مشکوٰۃ ص:۴۳۵، باب الظلم)۔ وعن أبی ھریرۃ قال: ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: أتدرون ما المفلس؟ قالوا: المفلس منّا من لَا درھم لہ ولَا متاع، فقال: ان المفلس من اُمّتی من یأتی یوم القیامۃ بصلٰوۃ وصیام وزکٰوۃ، ویأتی قد شتم ھٰذا، وقذف ھٰذا، وأکل مال ھٰذا، وسفک دم ھٰذا، وضرب ھٰذا، فیعطی من حسناتہ وھٰذا من حسناتہ، فإن فنیت حسناتہ قبل أن یقضی ما علیہ، اُخذ من خطایاھم فطرحت علیہ ثم طرح فی النار ۔۔۔إلخ۔ (مسلم ج:۲ ص:۳۲۰، مشکوٰۃ ص:۴۳۵، باب الظلم، طبع قدیمی)۔

