بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

غصب‌کی‌ہوئی‌چیز‌کا‌لین‌دین

غصب‌شدہ‌مکان‌کے‌متعلق‌حوالہ‌جات

سوال:۔

آپ نے مسئلہ کا حل مشتہر فرمایا ’’غصب کردہ مکان میں نماز‘‘ براہِ کرم جواب کا حوالہ فقہ کا ہے یا حدیث شریف کی کتاب کا؟ نام، صفحہ مفصل تحریر فرماویں تاکہ عدالتِ شرعی کو رُجوع کیا جاوے۔

جواب:۔

اخبار ’’جنگ‘‘ یکم مئی ۱۹۸۱ء میں جو مسئلہ ’’غصب کردہ مکان میں نماز‘‘ کے عنوان سے درج کیا گیا ہے، اس کی بنیاد مندرجہ ذیل نکات پر ہے:

۱:۔ عقدِ اِجارہ کی صحت کے لئے آجر اور مستأجر کی رضامندی شرط ہے (فتاویٰ ہندیہ ج:۴ ص:۴۱۱)۔(۱)

۲:۔ اِجارہ مدّتِ مقرّرہ کے لئے ہو تو اس مدّت کی پابندی فریقین کے ذمہ لازم ہے،(۲) اور اگر مدّت متعین نہیں کی گئی، بلکہ ’’اتنا کرایہ ماہوار‘‘ کے حصول پر دیا گیا تو یہ اِجارہ ایک مہینے کے لئے صحیح ہوگا، اور مہینہ پورا ہونے پر فریقین میں سے ہر ایک کو اِجارہ ختم کرنے کا حق ہوگا (فتاویٰ ہندیہ ج:۴ ص:۴۱۶)۔(۳)

۳:۔ کسی شخص کی رضامندی کے بغیر اس کے مال پر اس طرح مسلط ہوجانا کہ مالک کا قبضہ زائل ہوجائے، یا وہ اس پر قابض نہ ہوسکے ’’غصب‘‘ کہلاتا ہے (فتاویٰ ہندیہ ج: ۵ ص:۱۱۹)۔(۴)

۴:۔ اور غصب کردہ زمین میں نماز مکروہ ہے۔(۵)

  1. (۱) وأما شرائط الصحۃ فمنھا رضاء المتعاقدین۔ (عالمگیری ج:۴ ص:۴۱۱، کتاب الْإجارۃ، الباب الأوّل)۔
  2. (۲) ولو قال آجرتک ھٰذہ الدار سنۃ کل شھر بدرھم جاز بالْإجماع لأن المدّۃ معلومۃ والأجرۃ معلومۃ فتجوز فلا یملک أحدھما الفسخ قبل تمام السنۃ من غیر عذر۔ (عالمگیری ج:۴ ص:۴۱۶، کتاب الْإجارۃ، الباب الثالث فی الأوقات)۔
  3. (۳) وإن آجر دارًا کل شھر بدرھم صح العقد فی شھر واحد وفسد فی بقیۃ الشھور وإذا تم الشھر الأوّل فلکل واحد منھما أن یقض الْإجارۃ لِانتھاء العقد الصحیح۔ (عالمگیری ج:۴ ص:۴۱۶، کتاب الْإجارۃ، الباب الثالث فی الأوقات)۔
  4. (۴) الباب الأوّل فی تفسیر الغصب أما تفسیرہ شرعًا فھو أخذ مال متقوم محترم بغیر إذن المالک علٰی وجہ یزیل ید المالک إن کان فی یدہ أو یقصر فی یدہ إن لم یکن فی یدہ کذا فی المحیط۔ (عالمگیری ج:۵ ص:۱۱۹، کتاب الغصب)۔
  5. (۵) قال وکذا تکرہ فی أماکن کفوق الکعبۃ ۔۔۔ وأرض مغصوبۃ أو للغیر۔ (شامی ج:۱ ص:۳۷۹، کتاب الصلاۃ)۔